تاثیر 10 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن۔
دربھنگہ(فضاامام):زمین کی خرید و فروخت میں جعلسازی، دھوکہ دہی اور تنازعات پر روک لگانے کے لیے حکومت اور محکمہ رجسٹری کی جانب سے نئی شروعات کی گئی ہے۔ اب زمین خریدنے سے پہلے خریدار کو متعلقہ زمین کی سرکاری جانچ رپورٹ فراہم کی جائے گی۔ اس نئی انتظامی کارروائی سے زمین کی خرید و فروخت میں شفافیت بڑھے گی اور فرضی رجسٹری جیسے معاملات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح ہوگا کہ زمین نجی ہے یا سرکاری اور اس پر کسی قسم کا تنازع موجود ہے یا نہیں۔نئے نظام کے تحت زمین خریدنے کے خواہش مند افراد کو ای-نِبندھن پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دینی ہوگی۔ درخواست کے وقت زمین سے متعلق تمام ضروری معلومات دینا لازمی ہوگا، جن میں کھاتہ نمبر، کھسرا نمبر، رقبہ، چوہدی، جمع بندی نمبر اور فروخت کنندہ کا نام شامل ہوگا۔ انہی تفصیلات کی بنیاد پر متعلقہ انچل دفتر زمین کی مکمل جانچ کرے گا۔ حکومت نے اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ انچل افسران درخواست موصول ہونے کے بعد 10 دن کے اندر ہر حال میں جانچ رپورٹ تیار کریں گے۔اس سے پہلے بھی زمینی تنازعات سے متعلق کئی ایسے معاملات سامنے آ چکے ہیں جن میں زمین کسی اور کی تھی اور فروخت کسی اور نے کر دی۔ نئی انتظامی کارروائی سے زمین کی خرید و فروخت سے جڑی دھوکہ دہی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اگر کسی وجہ سے متعلقہ سی او مقررہ 10 دن کے اندر اپنی رپورٹ تیار نہیں کرتے تو پورٹل پر اپ لوڈ کی گئی معلومات کی بنیاد پر ہی خرید و فروخت کا عمل مکمل کیا جا سکے گا، تاہم اس معاملے میں متعلقہ افسر کی جوابدہی بھی طے کی جائے گی تاکہ نظام پر نگرانی برقرار رہے۔اس نئی سہولت سے عام لوگوں کو غیر ضروری پریشانیوں سے راحت ملے گی اور زمین کی خرید و فروخت کا عمل زیادہ محفوظ اور آسان ہوگا۔ ایسے خریدار جن کے خریدے گئے پلاٹ یا زمین سے متعلق کسی قسم کا تنازع یا رکاوٹ موجود ہوگی، انہیں پہلے ہی اس کی اطلاع مل جائے گی۔ اس نظام سے زمین کی خرید و فروخت میں زیادہ احتیاط اور شفافیت آئے گی اور زمینی تنازعات میں کمی ہوگی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ زمین نجی ہے یا سرکاری اور اس پر کسی قسم کا تنازع تو موجود نہیں۔ موجودہ مالکانہ حق درست ہے یا نہیں اور کس کا دعویٰ پہلے سے موجود ہے، یہ تمام تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہوں گی۔ حکومت کی نئی کارروائی نافذ ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوگا جو زمین خریدتے وقت مکمل معلومات حاصل نہیں کر پاتے تھے۔

