پٹرول -ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور عوام

تاثیر 15 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً تین روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی)  کے چیئرمین برجیش گوئل نے اسے ایک چھوٹا سا اضافہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا پورے سپلائی چین پر گہرا اثر پڑے گا۔  مغربی بنگال کے ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے بھی فریٹ لاگت میں تین فیصد اضافے کا اندازہ لگاتے ہوئے تشویش ظاہر کی ہے۔ خاص طور پر کولکاتا میں چاروں بڑے شہروں کے مقابلے سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں پٹرول 108.74 روپے اور ڈیزل 95.13 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
یہ اضافہ بظاہر ً معمولی لگتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ایک اوسط ٹرک روزانہ 80 سے 100 لیٹر ڈیزل استعمال کرتا ہے۔ تین روپے فی لیٹر اضافے سے روزانہ 240 سے 300 روپے اضافی خرچ ہوگا، جو ماہانہ 7,500 سے 9,000 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ نتیجتاً مال کی نقل و حمل (فریٹ) کی لاگت میں 3 سے 5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ دہلی کے بڑے ہول سیل مارکیٹس جیسے چاندنی چوک، صدر بازار، کرول باغ اور خاری باولی سے پورے ملک کو سامان کی سپلائی ہوتی ہے۔ یہاں نقل و حمل مہنگی ہونے سے کپڑے، الیکٹرانکس، مصالحہ جات، ادویات اور دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر براہ راست دباؤ پڑے گا۔
چھوٹے دکاندار، ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان پر اس کا سب سے شدید اثر پڑ رہا ہے۔ جنریٹر، ڈیلیوری وین اور پک اپ کے اضافی اخراجات سے ان کے روزانہ 50 سے 100 روپے تک اضافی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ بہت سے ہوٹل مینو کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ سی ٹی آئی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مہنگائی کے ڈر سے صارفین کی خریداری کم ہوگی اور کپڑے، الیکٹرانکس اور ریسٹورنٹ سیکٹر میں سیلز 5 سے 8 فیصد تک گر سکتی ہے۔ دہلی کے مشہور بازاروں،جیسے چاندنی چوک، سروجنی نگر، لاجپت نگر وغیرہ میں خریداروں کی تعداد کم ہونے کا امکان ہے، جو چھوٹے تاجر کی روزی روٹی کو براہ راست متاثر کرے گا۔
آل انڈیا ٹرانسپورٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تاجر اس اضافے کا بہانہ بنا کر سامان کی قیمتیں غیر متناسب نہ بڑھائیں۔ کیب آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ان پر روزانہ 50 سے 60 روپے اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔حالانکہ یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تناؤ اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ حکومت اور تیل کمپنیوں نے 11 ہفتوں تک قیمتوں کو مستحکم رکھا تھا، مگر اب دباؤ میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ تاہم، عوام کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اضافہ ان کے لئے ایک نیا دکھ ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی کے دباؤ تلے کسمپرسی میں مبتلا عام آدمی اب نقل و حمل، اشیائے ضروریہ اور روزمرہ اخراجات میں مزید اضافے کا شکار ہو رہا ہے۔
ایسے میںحکومت کو چاہئے کہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے۔ ریاستوں میںویٹ کی شرحوں میں مناسب کمی، ٹرانسپورٹرز کو کچھ ریلیف اور چھوٹے کاروباریوں کے لئے ٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات سے عوام پر بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاجروں کو بھی اخلاقی ذمہ داری
نبھانی چاہئے اور ضروری اشیاء کی قیمتیں صرف حقیقی لاگت کے مطابق بڑھائیں۔
آخر میں، یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہئے کہ ایندھن کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے جڑی ہوتی ہیں، مگر ایک ترقی پذیر معیشت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب اور متوسط طبقے کو اس کے اثرات سے زیادہ سے زیادہ بچائے۔ اگر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کی لاگت مسلسل بڑھتی رہی تو نہ صرف مہنگائی کا دور چلے گا بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی سست پڑ سکتی ہیں۔ چنانچہ حکومت، صنعت کار اور عوام سب کو مل کر اس چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ عوام کی جیب پر بوجھ کم کرنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، ورنہ یہ ’’چھوٹا‘‘ اضافہ بڑی معاشی پریشانی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
********