تاثیر 21 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 21/ مئی (تاثیر بیورو) آٹزم اور سماجی شمولیت کے موضوع پر مبنی ڈاکیومنٹری “بریکنگ دی فریم، دی جرنی آف ویسٹ بنگال فرسٹ آٹسٹک ماڈل” کی خصوصی نمائش میں نیورو ڈائیورس افراد کی زندگی، ان کے مسائل اور سماج میں شمولیت کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔
ہدایت کار سومن داس کی اس ڈاکیومنٹری میں مغربی بنگال کے پہلے آٹسٹک ماڈل بدوریا بخشی کی زندگی، جدوجہد اور کامیابی کو پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں یہ دکھایا گیا کہ آٹسٹک افراد میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہوتی بلکہ سماجی عدمِ تفہیم اور مناسب مواقع کی کمی اصل رکاوٹ بنتی ہے۔
اس موقع پر آٹزم بیداری کارکن، ڈی وِش انسٹی ٹیوٹ فار اسپیشل نیڈس کی شریک بانی سمترا پال بخشی نے کہا کہ یہ فلم صرف ان کے بیٹے کی ماڈلنگ کے سفر کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کا پیغام ہے کہ اگر سماج سمجھداری اور تعاون کا رویہ اپنائے تو خصوصی افراد بھی عزت اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔

