تاثیر 02 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ)سمری تھانہ علاقے میں پیر کی رات ایک جیولری کاروباری سے تقریباً 22 لاکھ روپے مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات لوٹ لیے جانے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے واردات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور تکنیکی ٹیم کے ساتھ تحقیقات شروع کر دی موصولہ اطلاعات کے مطابق سنگھواڑہ نگر پنچایت وارڈ نمبر 1 رہائشی امیری ٹھاکر کے بیٹے شیبو ٹھاکر گزشتہ تقریباً دس برسوں سے بردی پور چوک پر گیاتری جیولرز اینڈ برتن بھنڈار کے نام سے دکان چلا رہے ہیں۔ پیر کی شام دکان بند کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل سے گھر واپس آ رہے تھے اسی دوران شیو گنگا گودام کے قریب پہلے موڑ پر پہلے سے گھات لگائے بدماشوں نے ان کی موٹر سائیکل روک لی متاثرہ کاروباری کے مطابق ایک نوجوان نے سڑک کے بیچ موٹر سائیکل کھڑی کر کے راستہ بند کر دیا اور ان کی موٹر سائیکل کو دھکا دے کر گرا دیا۔ اسی دوران دوسری موٹر سائیکل پر سوار تین دیگر بدماش بھی وہاں پہنچ گئے۔ تمام ملزمان نے باپ بیٹے کے ساتھ دھکا مکی کی اور موٹر سائیکل کی ڈکی توڑ دی ڈکی میں رکھے سرخ رنگ کے تھیلے میں سونے اور چاندی کے زیورات موجود تھے، جسے لے کر تمام بدماش فرار ہو گئے لوٹے گئے سامان میں تقریباً ساڑھے تین کلوگرام چاندی کے زیورات شامل ہیں، جن میں پائل، سکڑی، بچھیا، ہاتھ سنکر اور دیگر زیورات شامل تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً 80 سے 85 گرام سونے کے زیورات، جن میں نوز پن، انگوٹھی، ڈھولنا، ہنومانی، منگل سوتر، جھمکا، بالی اور دیگر نیم تیار شدہ زیورات بدماش اپنے ساتھ لے گئے۔ ملزمان نے کاروباری کی جیب سے تقریباً 25 ہزار روپے نقد، آدھار کارڈ، پین کارڈ اور دیگر ضروری دستاویزات بھی چھین لیا متاثرہ شخص نے بتایا کہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ مجرموں کی شناخت نہیں کر سکے تمام بدماش درمیانے قد و قامت کے تھے اور آپس میں ہندی زبان میں گفتگو کر رہے تھے۔ واردات انجام دینے کے بعد وہ موٹر سائیکل سے بردی پور کی جانب فرار ہو گئے واقعہ کی اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج اروند کمار، ایڈیشنل تھانہ انچارج ششی شنکر کمار اور تکنیکی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے ہیں اور آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں سمری تھانہ میں مقدمہ نمبر 106/26 درج کر کے تفتیش کی جا رہی ہے قابل ذکر ہے کہ 9 نومبر 2017 کو بھی اسی گیاتری جیولرز دکان کو چوروں نے نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت نامعلوم چور دکان کا شٹر اور تالا توڑ کر اندر داخل ہو گئے تھے اور سونے چاندی کے زیورات سے بھری پوری تجوری اٹھا کر فرار ہو گئے تھے۔ اس بڑی چوری کی واردات کا آج تک پردہ فاش نہیں ہو سکا اور نہ ہی چوری شدہ زیورات برآمد کیے جا سکےاب نو سال بعد ایک بار پھر اسی صرافہ تاجر کے ساتھ ہونے والی بڑی واردات نے تاجروں اور کاروباری طبقے کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں نے علاقے کی سکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہےتھانہ انچارج اروند کمار نے بتایا کہ پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ تکنیکی شواہد اور دیگر سراغوں کی بنیاد پر مجرموں کی شناخت کی جا رہی ہے اور جلد ہی اس معاملے کا انکشاف کر لیا جائے گا

