تاثیر 04 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پچھلے دو تین دنوں میں دہلی، بہار اور حیدرآباد میں ایک کے بعد ایک بھیانک آگ لگنے کے واقعات نے پورے ملک کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔ دہلی کے مالویہ نگر میں 22 بے گناہ لوگوں کی جان لے لینے والا سانحہ، مظفرپور کے ایک نجی ہسپتال میں آئی سی یو کے مریضوں کی اموات اور حیدرآباد کے امیرپیٹ کے مصروف کمرشیل کمپلیکس میں لگی آگ نے فائر سیفٹی کے نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ یہ واقعات صرف حادثات نہیں، بلکہ انسانی لاپرواہی اور انتظامی غفلت کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
دہلی کے مالویہ نگر میں گزشتہ روز ایک کمرشیل عمارت میں شارٹ سرکٹ سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آگ شدید تھی اور باہرنکلنے کے سبھی راستے بند تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 21 لوگ جاں بحق ہو گئے۔ جن لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں پہچاننے کی کوشش کی، ان کی آنکھیں اب بھی آنسوؤں سے بھری ہیں۔ کئی لاشیں اتنی جل چکی تھیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر پہچاننا مشکل ہو گیا۔ والدین، بیویاں اور بچے ہسپتال کے باہر روتے بلکتے نظر آئے۔ ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ’’فوٹو دیکھ کر بھی اپنوں کو پہچان نہیں پا رہا ہوں۔‘‘
اسی طرح بہار کے مظفرپور میں پرساد ہسپتال کے آئی سی یو میں آگ لگی۔ رات کے وقت مریض بے بس تھے۔ دھواں اتنا گھنا تھا کہ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ اب تک پانچ مریضوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اہل خانہ الزام لگا رہے ہیں کہ ہسپتال کا عملہ اپنی جان بچانے میں مصروف رہا اور اور ان میں سے کسی نے بھی مریضوں کی مدد نہیں کی۔ ایک رشتہ دار غصے سے یہ کہتے ہوئے سنے گئے ’’ہم خود اندر گھس کر مریضوں کو نکال رہے تھے۔ اسٹاف بھاگ گیا تھا۔‘‘ دوسری جانب حیدرآباد کے امیرپیٹ علاقہ میں ایک بڑے کمرشیل کمپلیکس میں گزشتہ روز آگ لگی۔ تنگ گلیوں کی وجہ سے فائر بریگیڈ ز کو پہنچنے میں دیر ہوئی۔ اگرچہ وہاں سے جانی نقصان کی خبر نہیں ملی ہے، مگر مالی نقصان بے حساب ہوا ہے۔
غور سے دیکھا جائے تو مذکورہ تینوں واقعات کا سبق ایک ہی ہے۔ کوئی بھی کاروبار، ہوٹل، ہسپتال یا شاپنگ کمپلیکس، انسانی جانوں سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ منافع کی ہوس نے سیفٹی کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ بغیر فائر این او سی کے چلنے والے ادارے، غیر قانونی تعمیرات اور پرانی بجلی کی وائرنگ عام بات بن چکی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ گرمی کی وجہ سے بڑھتا درجہ حرارت بھی ایک وجہ ہے، مگر سچی بات یہی ہے کہ اصل وجہ انسانی لاپرواہی ہے۔حالانکہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائے۔ فائر سیفٹی کے قوانین صرف فائلوں کو موٹا کرنے کے لئے نہیں بنائے گئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر عمارت کو باقاعدگی سے چیک کیا جائے۔ فائر ایگزٹ، الارم سسٹم، مناسب وینٹیلیشن اور پانی کا ذخیرہ لازمی ہو۔ اگر کوئی عمارت ان اصولوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے تو فوری طور پر اسے سیل کیا جائے اور مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دہلی، بہار اور تلنگانہ کی حکومتوں کو اب فوری ایکشن لینا چاہئے۔ تمام حساس عمارتوں کی تازہ انسپیکشن مہم شروع کی جائے۔ جو لوگ ذمہ دار ہیں، ان پر غیر اراد ی طور پر َ قتل کے مقدمے درج کیے جائیں۔ معاوضے کا اعلان اچھی بات ہے، مگر اس سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اصل حل احتساب اور اصلاحات میں ہے۔عوام بھی خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ غیر محفوظ جگہوں پر کام نہ کریں اور خلاف ورزی دیکھنے پر فوری شکایت کریں۔ سوشل میڈیا پر غصہ ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس کے سسٹم پر منظم دباؤ بھی ڈالنا ضروری ہے تاکہ حکومتیں جاگیں۔
یہ سانحات ہمیں باور کراتے ہیں کہ ترقی کا مطلب صرف عمارتیں کھڑی کربا اور پیسہ کمانا نہیں بلکہ لوگوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔ جب تک فائر سیفٹی کے اصولوں پر سخت عملدرآمد نہیں ہوگا، ایسے افسوسناک واقعات رک نہیں سکیں گے۔ حکومت کو ایک قومی سطح کی فائر سیفٹی پالیسی بنانی چاہئےجو تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ ہو۔ویسے ان واقعات نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہر سال معصوموں کی جانیں جانے کے بعد ہی ہماری نیند کیوں ٹوٹتی ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو۔ انسانی جانوں پر کوئی سودا نہیں چلے گا۔ انتظامیہ کو عوام حامی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ جانے یا انجانے طور ہر ایسے سانحات دوبارہ نہیں دہرائے جاسکیں۔

