تاثیر 11 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پچھلے چند دنوں سے ملک کے سیاسی گلیاروں میں تیز بحث چھڑی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور کانگریس کے درمیان ممکنہ قریبی تعلقات، حتیٰ کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے کانگریس میںانضمام کی خبریں گرم ہیں۔پچھلے دنوں ممتا بنرجی اور سونیا گاندھی کی ملاقات کے بعد یہ اٹکلیں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔ تاہم ٹی ایم سی نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انضمام کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ابھیشیک بنرجی اور راہل گاندھی کی ملاقات بھی ’انڈیا‘ بلاک کی حکمت عملی پر مبنی تھی، نہ کہ انضمام کے سلسلے میںکسی گفتگو پر۔ ظاہر ہےیہ افواہیں بھارتی سیاست کے موجودہ منظر نامے کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کی زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
بھارت جیسے عظیم جمہوری ملک میں صحت مند اپوزیشن کی اہمیت ناقابل انکار ہے۔بر سر اقتدار اتحاد (این ڈی اے) جتنا مضبوط ہو، کم و بیش اتنی ہی مضبوط اور منظم اپوزیشن بھی ضروری ہے۔ اپوزیشن حکومت کی نگرانی کرتی ہے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھاتی ہے، عوامی مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور متبادل پالیسیاں پیش کرتی ہے۔ اگر اپوزیشن کمزور یا تقسیم شدہ ہو تو جمہوریت کے توازن کا بگڑنا طے ہے۔موجودہ حالات میں بی جے پی کی مرکزی حکومت کے سامنے ایک متحد اور مؤثر اپوزیشن کی کمی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔’ انڈیا ‘ بلاک اسی خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے، لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کو پارٹیوں کے انضمام تک لے جا ناکیا درست ہوگا؟
افواہوں کے مطابق اگر ٹی ایم سی کا کانگریس میں انضمام ہو جاتا ہے تو مغربی بنگال میں کانگریس کی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹی ایم سی کے80 کے قریب اسمبلی اراکین اور باغیوں سمیت 28 لوک سبھا اراکین کے شامل ہونے سے کانگریس کی عددی طاقت بڑھے گی۔ تاہم یہ صرف اعداد و شمار کی بات نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کے انضمام سے ان کی الگ شناخت، نظریات اور مقامی بنیاد متاثر ہوتی ہے۔کبھی ممتا بنرجی نے خود کانگریس سے الگ ہو کر ٹی ایم سی بنائی تھی اور مغربی بنگال میں کانگریس کو کمزور کیا تھا۔ اب واپسی کی افواہیں ان کی سیاسی مجبوریوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ٹی ایم سی کے اندر موجود عدم اطمینان اور کچھ رہنماؤں کے استعفوں نے بھی پارٹی کو چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے ۔
صحت مند جمہوریت میں بر سر اقتدار پارٹیوں اور اپوزیشن دونوں کو اصولوں کا پاس و لحاظ رکھنا چاہئے۔ بر سر اقتدار اتحادکو اپوزیشن کو دبانے یا کمزور کرنے کی بجائے اسے مضبوط ہونے کا موقع دینا چاہئے۔ قانون، اداروں اور انتخابی عمل کی غیر جانبداری اسی سے ممکن ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنے ذاتی، علاقائی یا خاندانی مفادات سے اوپر اٹھ کر قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہئے۔ اگر ممتا بنرجی اور کانگریس قیادت اتحاد کو مضبوط کرنے کی بجائے ضم ہونے پر غور کر رہی ہیں تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ قومی مفاد میں ہے یا صرف اقتدار کی سیاست ہے؟
ـ’انڈیا ‘ بلاک کے تحت مختلف پارٹیاں اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے بی جے پی کے خلاف متحد ہو سکتی ہیں۔ یہ ماڈل کامیاب بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ کئی ریاستوں میں دیکھا گیا۔ لیکن مکمل انضمام سے پارٹیوں کا تنوع ختم ہو سکتا ہے۔ بھارت جیسے متنوع ملک میں چھوٹی بڑی علاقائی پارٹیاں اپنے مخصوص مسائل کو بہتر طریقے سے اٹھا سکتی ہیں۔ ان کا ضم ہونا قومی سطح پر ایک بڑی اپوزیشن تو بنا سکتا ہے، مگر مقامی سطح پر کمزوری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں شاید ٹی ایم سی کے اندرونی انتشار کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہیں۔ الگ ہونے والے رہنما نئے راستے تلاش کریں گے، جبکہ انضمام سے پارٹی کی جائیداد اور انتخابی نشان بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹی ایم سی کے آفیشیل بیان سے یہ واضح ہے کہ وہ اپنی آزاد شناخت برقرار رکھے گی اور صرف اتحاد کی سطح پر تعاون کرے گی۔
بہر حال، بھارت کی جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اپوزیشن کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ ممتا بنرجی، راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما اگر حقیقی طور پر قومی مفاد میں متحد ہوں تو یہ عوام کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ ضم ہونے کی بجائے باہمی احترام، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی ہی بہتر راستہ ہے۔ جمہوریت تبھی کامیاب ہوتی ہے جب اقتدار اور اپوزیشن دونوں متوازن اور ذمہ دار ہوں۔ آنے والا وقت دیکھے گا کہ یہ افواہیں محض افواہیں رہتی ہیں یا سیاست کا نیا باب بنتی ہیں۔
*********

