تاثیر 19 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بیتول، 18 جون:صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ روحانی بیداری انسان کو اپنی اندرونی طاقت کا احساس کراتی ہے اور مثبت سوچ کو زندگی کے اعلیٰ اصولوں سے جوڑتی ہے۔ ترقی اور ثقافت کا توازن ہی کسی بھی بااختیار اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ دائمی ترقی وہی ہے، جو ہماری جڑوں کو مضبوط بناتے ہوئے مستقبل کے امکانات کا راستہ ہموار کرے۔
صدر جمہوریہ مرمو جمعرات کو مدھیہ پردیش کے بیتول میں پرجاپیتا برہما کماری ایشوریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’روحانی بیداری سے قبائلی معاشرے کا تفویضِ اختیار‘ مہا سمیلن سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کا تفویضِ اختیار صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی تفویضِ اختیار تب ہوتا ہے جب انسان میں خود اعتمادی، خود داری، بیداری اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرہ خود داری کے ساتھ زندگی گزارنے والا معاشرہ ہے اور اس کی یہی خصوصیت اسے منفرد بناتی ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان نے سال 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کا حصول اسی وقت ممکن ہے، جب ملک کا ہر طبقہ ترقی کے مرکزی دھارے سے جڑ جائے۔ ہمالیہ سے لے کر کنیا کماری تک ہندوستان کی ثقافتی اور قدرتی وراثت محفوظ اور برقرار رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برہما کماری ادارے کے ذریعے منعقدہ اس طرح کے سمینار قبائلی معاشرے کی روحانی بیداری، سماجی بیداری اور ہمہ گیر ترقی کے لیے بے حد مفید ثابت ہوں گے۔

