اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی دھمک

تاثیر 23 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 کی دھمک دھیرے دھیرے تیز ہونے لگی ہے۔انتخابات سے قبل ریاست کی سیاست میں دو اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ ایک طرف جہاں پڑوسی ریاست بہار میں بھرت تیواری کے مبینہ پولیس انکاؤنٹر نے یوپی کے مشرقی علاقے کے برہمن ووٹ بینک میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور دوسری طرف سوامی پرساد موريہ، چندر شیکھر آزاد، اسد الدین اویسی اور ہنومان بینیوال جیسے رہنماؤں کے ممکنہ تھرڈ فرنٹ کی اٹکلیں بھی زور پکڑنے لگی ہیں۔ ذات پات کی سیاست کے ارد گرد گھومنے والی ریاست کی چناوی سیاست کے درمیان یہ دیکھنا ضروری ہےکہ کیا متعلقہ سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کی سیاست سے آگے نکل کر ترقی، تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل پر توجہ دے سکیں گی؟
بھرت تیواری انکاؤنٹر نے بلیا، غازی پور، مؤ ، وارانسی اور جونپور جیسے برہمن اکثریت والے علاقوں میں ووٹ بینک کے لئے ماحول سازی تیز کر دی ہے۔ برہمن ووٹرز، جو تقریباً 12 سے 14 فیصد آبادی رکھتے ہیں اور مشرقی علاقے میں کنگ میکر کا کردار ادا کرتے ہیں، اپنے تحفظ کی بات کرنے لگے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے لوگوں نے بھرت تیواری انکاؤنٹرکو ’’ٹارگٹیڈ کلنگ‘‘ قرار دے کر برہمن وقار کی حفاظت کا بیانیہ گڑھنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ مایاوتی کی بی ایس پی بھی ستیش چندر مشرا کے ذریعے دلت-برہمن سوشل انجینئرنگ کو دوبارہ آزمانے کی تیاری میں ہے۔ بی جے پی نظم و نسق اور ’’زیرو ٹالرنس ‘‘ کی پالیسی کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیمیج کنٹرول میں مصروف ہے۔ ظاہر ہے یہ معاملہ اِس صورتحال کا مظہر ہے کہ یوپی کی سیاست میں ذات پات اب بھی غالب ہے۔ مگر جمہوریت کے لئے یہ خوش آئند ہے کہ بیشتر ووٹرز کی ناراضگی سیاسی جماعتوں کو جواب دہ بننے پر مجبور کر رہی ہے۔ البتہ انکاؤنٹر جیسے معاملات کو خالص انتخابی فائدے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے شفاف تفتیش اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے کیا جانا چاہئے۔صرف ذات پات اور رنگ و نسل کے آئینے سے اس طرح کے معاملوں کو دیکھنا اور اسی نقطۂ نظر سے سماجی و سیاسی ایشو بنانا قطعی مناسب نہیں ہے۔
ریاست کی دوسری اہم چناوی پیش رفت تھرڈ فرنٹ کے قیام کی کوشش ہے۔ سوامی پرساد موریہ (او بی سی)، چندر شیکھر آزاد (دلت)، اویسی (مسلم) اور بینیوال (جاٹ) کے ممکنہ اتحاد کی باتیں ہو رہی ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ظاہر ہے یہ فرنٹ نن کیڈر ووٹوں کو تقسیم کر کے بڑی پارٹیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا سب سے زیادہ نقصان سماجوادی پارٹی کو ہو سکتا ہے، جبکہ بی جے پی اینٹی انکمبینسی کے ووٹس کے بکھراؤ سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ تاہم، تھرڈ فرنٹ جمہوری نقطۂ نظر سے مثبت بھی ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ ووٹوں پر چند سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
ان تمام سیاسی کھیلوں کے درمیان ترقیاتی ایجنڈے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یوپی جیسے بڑے صوبے میں، جہاں نوجوان بے روزگاری، تعلیم کا معیار، صحت کی سہولیات، زرعی جدید کاری، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے (سڑکیں، بجلی، انٹرنیٹ) جیسے مسائل درپیش ہیں، ووٹ بینک کی سیاست طویل مدتی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ بی جے پی کو اپنے ترقیاتی کاموں، جیسے ایکسپریس ویز، صنعتی پارکس اور ڈیجیٹل انیشی ایٹوز کو مزید مؤثر طریقے سے پیش کرنا چاہیے تاکہ ذات پات سے بالاتر ہو کر ووٹرز کو متوجہ کیا جا سکے۔ سماجوادی پارٹی کو پی ڈی اے (پچھڑا، دلت اور اقلیت) فارمولے کے ساتھ ساتھ روزگار اور تعلیم پر توجہ دے کر ایک جامع ترقیاتی بیانیہ بنانا ہوگا۔اور تھرڈ فرنٹ اگر واقعی متبادل بننا چاہتا ہے تو اسے ذات پات کے دائرے سے باہر نکل کر پانی، بجلی، ہنر مندی، سٹارٹ اپس اور خواتین بااختیاری جیسے ایشوز پر توجہ دینی چاہئے۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جو پارٹیاں ترقیاتی ایجنڈے کو مؤثر طریقے سے پیش کرتی ہیں، وہ ذات پات کی تقسیم کے باوجود کامیابی حاصل کرتی ہیں۔ 2027 کے انتخابات میں اگر تمام پارٹیاں ترقی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی پر توجہ دیں تو یہ نہ صرف ان کے لئے فائدہ مند ہوگا بلکہ صوبے کی مجموعی ترقی کی رفتا کو بھی تیز کرے گا۔
بہر حال جمہوریت حامی نظر یے کا تقاضہ ہے کہ ووٹرز کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے۔ایسے میں سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ نفرت، تقسیم اور خالص ذات پات کی سیاست کے بجائے ترقی اور ہم آہنگی کے ایجنڈے کو ترجیح دیں۔ اتر پردیش کےمشرقی علاقے کا برہمن ووٹ بینک، مسلم، دلت، او بی سی اور دیگر ووٹرز مل کر یوپی کی تقدیر کو بہتر بنانے کے لئے سوچیں اور کام کریں تو یہ سب کے لئے سودمند ہوگا۔