تاثیر 24 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارت کے جمہوری نظام میں پولیس انکاؤنٹر کا معاملہ ہمیشہ تنازع کا باعث رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں بہار کے بھوجپور ضلع کے بلاؤٹی گاؤں میں 26 سالہ بھرت بھوشن تیواری کے مبینہ پولیس انکاؤنٹر نے ایک بار پھر اس حساس مسئلے کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ 17 جون کو پیش آئے اس واقعہ میں پولیس کا دعویٰ خود دفاع کا ہے، جبکہ خاندان اور گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ بھرت نے ہتھیار پھینک کر سرنڈر کر دیا تھا، مگر پولیس نے اسے گولی مار دی۔ اس کے بعد پولیس کی گولیوں سے ایک فرد کی موت کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی، احتساب اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین سوالات کا اٹھنا فطری ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہی انکاؤنٹر کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔حالانکہ حکومت نے فوری اقدامات کیے ہیں۔ کئی پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے، ایس ڈی پی او راجیش شرما کو ہٹا کر ان کی جگہ پنکج مشرا کو تعینات کیا گیا ہے، اور بھرت کی والدہ کی شکایت پر قتل کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی نگرانی میں عدالتی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔ تاہم بھرت تیواری کا خاندان اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ بھرت کے والد کاشی ناتھ تیواری کا بیان ہے کہ پولیس نے انہیں حراست میں رکھا اور خاندان کی فریاد نہیں سنی۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ بھرت ایک سماجی کارکن تھا جو ندی کے کٹاؤ سے متاثرہ لوگوں کے لئے زمین، بجلی اور پانی کی سہولیات کے لئےجدوجہد کرہا تھا۔
یہ واقعہ کوئی اکیلا نہیں۔ بہار میں پچھلے تین ماہ کے دوران 13 انکاؤنٹرز ہو چکے ہیں۔ ریاستی سطح پر ان تمام واقعات کی ایماندارانہ اور شفاف جانچ ضروری ہے۔ قومی سطح پر بھی جہاں کہیں مشکوک انکاؤنٹر ہوئے ہیں،چاہے اتر پردیش ہو، تلنگانہ ہو یا کوئی اور ریاست،ان کی اعلیٰ سطحی، آزادانہ انکوائری ہونی چاہئے۔ پولیس کو مجرموں سے نمٹنے کا اختیار ہے، مگر یہ اختیار آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ جب ہتھیار پھینک کر سرنڈر کرنے والے شخص کو گولی ماری جائے تو یہ اکسٹرا جوڈشیل کلنگ کا شبہ پیدا ہونا لازمی ہے، جو جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔
اس معاملے سے جڑے سیاسی ردعمل بھی قابلِ توجہ ہے۔ اپوزیشن نے اسے’’سرکاری قتل‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی کے رہنما اشونی کمار چوبے، رتوراج سنہا اورپون سنگھ سمیت حکمران اتحاد کے کچھ ارکان نے بھی شفاف انکوائری اور احتساب کی مانگ کی ہے۔ کانگریس اور آر جے ڈی نے ہائی کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں جانچ اور تمام متعلقہ افسران پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے معمول کے مطابق پیشی کا مشورہ دیا ہے۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ معاملہ اب صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی بہت آگے بڑھ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انکاؤنٹر کلچر کے فروغ کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں دباؤ میں کام کرنے والی پولیس، سیاسی مداخلت، ثبوتوں کی کمی اور احتساب کا فقدان اہم ہے ۔ تاہم کوئی بھی وجہ قانون سے ماورا کارروائی کوحق بجانب نہیں ٹھہرا سکتی ہے۔ بھرت کے نکاؤنٹرکا کیس اس لئےزیادہ تشویش ناک ہے کہ وہ مبینہ طور پر نظام کے خلاف آواز اٹھانے والا تھا۔ اگر ایسے لوگوں کو’’نفسیاتی طور پر ’’غیر متوازن‘‘ قرار دے کر ختم کیا جائے تو اظہار رائے کی آزادی یقیناََ خطرے میں پڑ جائے گی۔اس لئے ضروری ہے کہ بہار کے تمام حالیہ انکاؤنٹرز کی آزاد عدالتی جانچ ہو، ملکی سطح پر مشکوک تمام انکاؤنٹرز کی اعلیٰ سطحی انکوائری کے لئے ایک قومی پالیسی بنائی جائے۔ جانچ میں کسی قسم کا سیاسی، مذہبی یا ذاتی امتیاز نہیں برتا جائے۔ پولیس اصلاحات کے ذریعے تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور احتساب کے نظام کومضبوط کیا جانا چاہئےتاکہ مسلمان، دلت اور اوبی سی سمیت ملک کے تمام شہریوں کو ایسا محسوس ہو ان کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا جا رہا ہے۔
بھرت بھوشن تیواری کے انکاؤنٹر کا معاملہ صرف ایک خاندان کامعاملہ نہیں رہ گیاہے۔ملک کے تمام باشعور شہری اسے انسانی حقوق سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ اگر انصاف میں تاخیر یا جانبداری برتی گئی تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف اس کیس بلکہ تمام طرح کے انکاؤنٹرز میں شفافیت دکھائے۔ قانون کی حکمرانی اسی وقت مضبوط مانی جائے گی جب رکھوالے خود قانون کے تابع ہوں۔ بصورت دیگر’’رکشک کے بھکشک‘‘ بننے کا الزام بار بار لگتا رہے گا، اور ایسا ہونا پورے ملک کے جمہوری وقار کے لئے نقصان دہ ہے۔

