ا یران کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں بھارت کی شرکت

تاثیر 29 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر عالمی سطح پر اظہارِ تعزیت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان کی شہادت 28 فروری کو تہران پر امریکہ-اسرائیل فضائی حملے میں ہوئی تھی۔ اب 4 سے 9 جولائی تک ان کے انتقال سےمتعلق رسومات منعقد ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر بھارت نے ایک اہم اور قابلِ احترام وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین اور وزارتِ خارجہ کے وزیر مملکت پبترا مارگریٹا اس وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ فیصلہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بھارت کی متوازن خارجہ پالیسی کا بھی آئینہ دار ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے باقاعدہ دعوت نامہ ملا تھا، مگر اپنی بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے وہ خود شرکت نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس لئے حکومت نے تجربہ کار اور معتبر شخصیات پر مشتمل ایک نمائندہ وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس وفد میں گورنر سید عطا حسنین کی شمولیت کو کافی اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل، فوجی تجربہ رکھنے والے اور مسلم پس منظر سے تعلق رکھنے والے عطا حسنین صاحب کی موجودگی اس وفد کو ایک خاص علامتی وزن بخشتی ہے۔اس فیصلے کے ذریعہ ایران کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ بھارت نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ تہذیبی اور جذباتی سطح پر بھی ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔
بھارت-ایران تعلقات طویل اور اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔ 2016 میں وزیراعظم مودی کے ایران کےدورے میں آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات اور چابہار بندرگاہ کےسہ فریقی معاہدے نے ان تعلقات کو ایک نئی بلندی عطا کی تھی۔ چابہار نہ صرف افغانستان تک بھارت کی رسائی کا اہم ذریعہ ہے بلکہ وسطی ایشیا تک تجارت کے لئے بھی اہم ہے۔ حالیہ برسوں میں بریکس فورم کے تحت دونوں ممالک کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس اراقچی اور انرجی منسٹر کی حالیہ بھارت آمد اسی تسلسل کی مثال ہے۔
موجودہ علاقائی تناؤ کے باوجود بھارت نے ایران کے ساتھ متوازن رویہ اختیار کیا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی رابطے جاری رہے۔ ایران کی جانب سے بھارت کو دعوت بھیجنا اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران بھارت کو ایک اہم تہذیبی اور اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے، چاہے علاقائی عوامل کتنے ہی تبدیل کیوں نہ ہو رہے ہوں۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے وفد کی شرکت کا اعلان کیا ہے، مگر بھارت کا انتخاب تجربہ کار اور اعلیٰ سطحی نمائندگی کا ہے، جو دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو اجاگر کرتا ہے۔اس نمائندگی کا سیاسی اور سفارتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف بھارت اپنی صحتمند خارجہ پالیسی کو عملی شکل دے رہا ہے، تو دوسری طرف وہ یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ علاقائی تنازعات میں کسی ایک فریق کا حامی بننے کے بجائے امن اور استحکام کی حامی قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ خامنہ ای کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا ،جب مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت جیسا ملک جو توانائی کی ضروریات، تجارت اور اسٹریٹجک مفادات کے باعث ایران سے جڑا ہوا ہے، بلا شبہ متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
گورنر بہار،سید عطا حسنین جیسی شخصیت کی شمولیت اس وفد کو مزید اہمیت بخشتی ہے۔ ان کا فوجی پس منظر اور انتظامی تجربہ بھارت کی پختگی کو ظاہرکرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ انتخاب یہ بھی بتاتا ہے کہ بھارت اپنے داخلی تنوع کا احترام کرتے ہوئے خارجہ پالیسی میں بھی مناسب نمائندگی کو یقینی بناتا ہے۔بہر حال یہ وفد بھارت-ایران تعلقات کی پائیداری کا مظہر ہے۔ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ چابہار، انرجی سیکورٹی، تجارت اور علاقائی استحکام جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کی یاد میں بھارت کی یہ شرکت نہ صرف ایک سفارتی رسم بلکہ دوستی کی مضبوط بنیاد پر کھڑے تعلقات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ مانا جا رہا ہے اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور تعاون کی راہ مزید ہموار ہوگی۔ ایسا ہونا نہ صرف دونوں ممالک کے لئے بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے بھی اہم ہے۔