انڈے پھینکے جانے کے واقعات پر کلکتہ ہائی کورٹ سخت، ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب

تاثیر 30 جون ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 30 جون : ترنمول کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں پر مبینہ طور پر انڈے پھینکے جانے کے واقعات کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے تفصیلی حلف نامہ داخل کر کے مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔ تاہم عدالت نے عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
کارگزار چیف جسٹس تپوبرت چکرورتی اور جسٹس پارتھ سارتھی چٹرجی پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے معاملے کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت سے پوچھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ صرف ایک یا دو افراد کی گرفتاری سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، بلکہ سماج میں بیداری پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس پارتھ سارتھی چٹرجی نے کہا کہ تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ریاست کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل راج دیپ مجمدار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی باضابطہ شکایت موصول نہ ہو تو انتظامیہ کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ترنمول کانگریس کی جانب سے سینئر وکیل کلیان بنرجی نے الزام لگایا کہ انڈے پھینکے جانے جیسے واقعات میں پولیس کا بھی کردار ہے۔ انہوں نے عدالت سے فوری عبوری حکم جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈے جیسے مقامات پر بھی اس طرح کے حملے ہو رہے ہیں اور حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ انہیں روکنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی ہے۔
ڈویڑن بنچ نے کہا کہ چونکہ ریاستی حکومت نے خود اس مسئلے کے وجود کو تسلیم کیا ہے، اس لیے فی الحال کسی عبوری حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ حلف نامے کے ذریعے پورے معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔