تاثیر 23 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نیٹ اور دیگر اہم امتحانات کے پرچہ لیک اسکینڈل نے حالیہ دنوں میں ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کو شدید مایوسی اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ’’یہ نوجوانوں کا مستقبل ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔‘‘ اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا تھاکہ پرچہ لیک اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ظاہر ہے وزیر اعظم کا یہ ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، اپنے مطالبات کی حمایت میں جب ہزاروں طلبہ جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں، اس احتجاج کی چنگاری ملک کے دوسرے علاقوں تک پہنچ رہی ہے، سو نم وانگچک 27 دنوںسے بھوک ہڑتال پر ہیں اور اپوزیشن جماعتیں بھی اس تحریک میں کود پڑی ہیں ، تو حکومت کو اس مسئلے کا نوٹس بلا تاخیر لینا چاہئے۔
بلا شبہ وزیر اعظم کا بیان طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے معاملے میں ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی ہیں اور واضح کیا ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کوئی بھی شخص کھیل نہیں کھیل سکتا ہے۔ظاہر ہے یہ یقین دہانی بہت ہی اہم ہے، کیونکہ پچھلی ایک دہائی میں مبینہ طور پر 152 سے زائد پرچہ لیک کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن سے کروڑوں طلبہ متاثر ہوئے۔ کانگریس نے یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ اس کے جواب میں مرکزی وزیر جے پی نڈا کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی بجائے اسے سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہئے۔
یہ بات اب پوری دنیا جان چکی ہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کا اثر ملک کے گوشے گوشے تک پہنچ گیا ہے۔تحریک کاروں کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمنندر پر دھان استعفیٰ دیں، طلبہ سے معافی مانگی جائے، احتجاج کرنے والوں پر درج مقدمات واپس لیے جائیں اور امتحان کے نظام میں بنیادی اصلاحات لائی جائیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے اور دیگر کارکنوں کی قیادت میں جاری یہ تحریک اب صرف طلبہ کی نہیں بلکہ والدین،رشتہ داروں، سماجی کارکنوں، اپوزیشن جماعتوں اور پورے بھارت کے عام لوگوں کی مشترکہ آواز بن چکی ہے۔ سو نم وانگچک حکومت سے طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یہ یقین دہانی کرے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کو تیار ہیں۔
اُدھرحکومت کا موقف ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے تیار ہے اور ڈائیلاگ کے دروازے کھلے ہیں۔ مگر طلبہ اور اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پہلے وزیر کا استعفیٰ ہو، پھر بحث ہو۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت ماضی میں بھی وزراء کے استعفوں کے مطالبات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی رہی ہے۔ تاہم، جب عوامی دباؤ نقصان کا باعث بنے تو حکومت نے لچک دکھائی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی اگر یہ بحران طول پکڑا تو نوجوانوں کے ووٹ بینک پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
ویسے اس اس بحران کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ تعلیمی نظام میں شفافیت کی کمی، کوچنگ مراکز کا ناجائز کاروباراور انتظامی غفلت نے مل کر طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ہزاروں طلبہ کی محنت ایک رات میں ضائع ہو جانا نہ صرف انفرادی المیہ ہے بلکہ قومی ترقی کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ طلبہ کا مطالبہ کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دے کر اخلاقی ذمہ داری قبول کریں،کسی بھی طرح سے غلط نہیں ہے۔یہ استعفیٰ نظام میں جواب دہی قائم کرنے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر یہ اقدامات کرنے چاہئیں کہ وزیر تعلیم دھرمنندر پر دھان سے استعفیٰ لے کر ذمہ داری کا پیغام دے۔ دوسرے، تمام امتحانات کے شفاف طریقے سے انعقاد کا بندبست کرنے اور پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کے لئے ایک آزاد کمیشن قائم کرے، جو پرچہ لیک روکنے کے لئے ٹیکنالوجی، نگرانی اور سخت سزاؤں کا موثر نظام تجویز کرے اور متاثرہ طلبہ کو معاوضہ دے۔ عام لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ’’طلبہ کا احتجاج جائز اور پرامن ہے۔ ان کی آواز کو دبانے کی بجائے سننا چاہئے۔ ‘‘وزیر اعظم نے نوجوانوں کو ترجیح دی ہے تو اب اس ترجیح کو عملی شکل دینے کا وقت ہے۔ اگر حکومت طلبہ کے مطالبات پر توجہ دے گی تو نہ صرف ان کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ تعلیمی نظام کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔ ملک کی ترقی کے لئے اپنے طلبہ اور نوجوانوں کے من مزاج کو خوش اور ان کے مستقبل کو روشن رکھنا ، حکومت کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
*********

