فرانس اور اسپین میں جنگل میں آتشزدگی کے باعث، دو لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور

تاثیر 25 جولائی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پیرس/میڈرڈ، 25 جولائی :فرانس اور اسپین میں جنگلات میں لگنے والی شدید آگ کے باعث دونوں ممالک میں دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے۔ فرانس کے جنوب مغربی علاقوں اور اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے اطراف کے علاقوں میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے۔بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اسپین نے اپنی تاریخ میں پہلی بار جنگلاتی آگ کے باعث قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، جبکہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے امدادی کارروائیوں کے لیے فوج تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔فرانسیسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فرانس 24 کے مطابق بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع مشہور سیاحتی مقام کیپ فیرے جزیرہ نما کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ ہزاروں افراد کاروں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوئے، جبکہ جنوب مغربی فرانس میں آگ تیزی سے بورڈو شہر اور اس کے نواحی دیہات کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اسپین میں میڈرڈ کے مضافاتی علاقوں میں جنگلات کی متعدد آگیں آپس میں مل گئی ہیں، جس کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ علاقائی انتظامیہ کے مطابق پانچ نگہداشت مراکز سے 430 سے زائد بزرگ اور معذور افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ سب سے بڑا انخلا سان مارٹن دے والدی ایگلیسیاس کے علاقے میں انجام دیا گیا۔میڈرڈ کی علاقائی سربراہ ازابیل دیاث آیوسو نے اس آگ کو خطے کی تاریخ کی سب سے ہولناک جنگلاتی آگ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق تیز ہوائیں، غیر معمولی گرمی اور ہوا میں نمی کی شدید کمی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔