تاثیر 10 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کلکٹریٹ کا دو گھنٹے تک گھیراؤ، مرکز و ریاستی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی
سہرسہ(سالک کوثر امام)مرکز اور بہار حکومت کی مبینہ عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف سہرسہ میں پیر کے روز کسانوں، مزدوروں، طلبہ، نوجوانوں اور خواتین نے متحد ہو کر ’جیل بھرو آندولن‘ کے تحت زبردست احتجاج کیا۔ آل انڈیا کسان سبھا ، کھیت مزدور و دیہی مزدور یونین اور سیٹو کی مشترکہ اپیل پر ضلع کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں کارکنان سہرسہ پہنچے اور کلکٹریٹ کا تقریباً دو گھنٹے تک گھیراؤ کیا۔
مظاہرین نے مرکز اور بہار حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اور اپنی مختلف مانگوں کو لے کر حکومت کے خلاف شدید احتجاج درج کرایا۔ اس احتجاج میں ایس ایف آئی ، ڈی وائی ایف آئی اور ایڈوا سمیت کئی دیگر عوامی تنظیموں کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔
ضلع کے مختلف بلاکس سے آئے مظاہرین صبح تقریباً 11 بجے ڈی بی روڈ واقع ضلع پریشد احاطے میں جمع ہوئے، جہاں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے کے بعد مظاہرین جلوس کی شکل میں ضلع ہیڈکوارٹر کی جانب روانہ ہوئے۔ جلوس جب کلکٹریٹ پہنچا تو مظاہرین نے دفتر کا گھیراؤ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بلند کیے۔
احتجاج کاروں نے حکومت کے سامنے 20 سے زائد مطالبات رکھے۔ ان میں باورچی، آشا کارکنان، ممتا کارکنان، آنگن باڑی کارکنان، کورئیر ورکرز سمیت تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور انہیں کم از کم 26 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دینے کا مطالبہ نمایاں رہا۔
مظاہرین نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے 5 ہزار روپے ماہانہ بے روزگاری بھتہ مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ کسانوں اور مزدوروں کے لیے نقصان دہ قرار دیے جانے والے چاروں لیبر کوڈ واپس لینے کی مانگ بھی زور شور سے اٹھائی گئی۔
مظاہرین نے سہرسہ میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں بہتر نکاسیٔ آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ مشرقی کوسی پشتے کے باہر جمع ہونے والے پانی کے مستقل حل کے ساتھ ساتھ مکھانہ اور ماہی پروری کے فروغ کے لیے مؤثر اور ٹھوس پالیسی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

