تاثیر 10 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پچھلے چند مہینوں سے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ جہاں کچھ عرصہ قبل قومی مباحثے کا ایجنڈا زیادہ تر بر سر اقتدار جماعت کے ہاتھ میں ہوتا تھا، وہاں اب اپوزیشن جماعتیں بھی پوری فعالیت کے ساتھ اہم مسائل کو اجاگر کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ طلبہ تحریکیں، ایگزامنیشن سسٹم میں شفافیت، تعلیم اور روزگار جیسے موضوعات اب سیاسی گفتگو کےمرکز میں آ چکے ہیں۔ظاہر ہے، یہ تبدیلی پارلیمانی جمہوریت کے صحت مند عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں عوام کے مسائل کو سامنے لانے اور ان پر بات چیت کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس دور میں اپوزیشن نے کئی حساس اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل اٹھائے ہیں۔ طلبہ احتجاج، امتحان پیپر لیکس اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق خدشات جیسے موضوعات نے نہ صرف میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ حکومت کو بھی ان پر وضاحت دینے اور ضروری اقدامات کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ یوپی جیسے اہم ریاستی انتخابات سے پہلے تعلیم اور روزگار جیسے موضوعات پر دونوں طرف سے توجہ مرکوز ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی قوتیں عوامی ترجیحات کو سمجھ رہی ہیں۔ راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کے پروگراموں کے بعد حکومت کی جانب سے بھی انھی موضوعات پر بیانات سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی مکالمہ اب پہلے سے بہتر اور دو طرفہ ہو گیا ہے۔
یقیناََیہ صورتحال پارلیمانی نظام کی اصل روح کو ظاہر کرتی ہے۔ بر سر اقتدار اور اپوزیشن جماعتیں دونوں اس نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ دونوں ہی ملک کے عوام کے تئیں ذمہ دار ہیں اور ان کی کوششوں کا مقصد امن و امان، ہمہ جہت ترقی اور عوام کی خوشحالی ہونا چاہئے۔ جب اپوزیشن مسائل اٹھاتی ہے تو اس سے حکومت کو عوامی توقعات سے ہم آہنگ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح جب حکومت ان مسائل پر ردعمل دیتی ہے اور اصلاحات کی طرف قدم بڑھاتی ہے تو اس سے جمہوری جوابدہی کے احساس کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ دونوں کا یہ باہمی تعامل ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے دو تین مہینوں میں اپوزیشن نے کچھ حد تک نیرٹیو سیٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم اس کامیابی کو صرف سیاسی فتح نہیں بلکہ عوامی مسائل کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ طلبہ تحریکوں نے تعلیم کے نظام میں بہتری کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، جبکہ روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مباحث نے دونوں طرف کی قیادت کو اس جانب متوجہ کیا ہے کہ نوجوان نسل کی توقعات کو پورا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ مباحث اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ عوام اب صرف جذباتی بیانیوں پر نہیں بلکہ عملی مسائل پر توجہ دینے لگے ہیں۔
اس تبدیلی کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ سیاسی گفتگو اب مندر، مسجد، قبرستان، شمشان گھاٹ، ہندو اور مسلمان کے حصار سے باہر نکل کربڑی تیزی کے ساتھ عوام مرکز بنتی جا رہی ہے۔ جب حکومت اور اپوزیشن دونوں تعلیم، روزگار، شفافیت اور نوجوانوں کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو اس سے ملک کی ترقی کا راستہ مزید واضح ہوتا ہے۔چنانچہ دونوں طرف کی کوششوں کا محور عوام کی فلاح ہونا چاہئے۔ پارلیمانی نظام میں اختلاف رائے ایک صحت مند عمل ہے، لیکن اس اختلاف کو تعمیری اور مثبت سمت میں لے جانا دونوں کی ذمہ داری ہے۔
اب اگلے کچھ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ سیاسی تبدیلی کس سمت جاتی ہے۔ یوپی انتخابات 2027 جیسے اہم مواقع پر یہ مباحث مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اس میں ہوگی کہ دونوں طرف کی قیادت ان مباحث کو صرف سیاسی فائدے تک محدود رکھنے کے بجائے عملی حل کی طرف لے جائے۔ عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس بنیادی حقیقت کے مدنظر اپنے کردار کو نبھانا چاہئے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ موجودہ سیاسی صورتحال جمہوریت کی پختگی کی علامت ہے۔ جب دونوں طرف کی قوتیں عوامی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں اور ان پر ردعمل دیتی ہیں تو ملک کا سیاسی نظام مزید مضبوط ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔چنانچہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ مکالمہ تعمیری شکل اختیار کرے اور ملک کو امن و امان، ہمہ جہت ترقی اور عوام کی خوشحالی کی سمت لے جائے۔ اورپارلیمانی جمہوریت کامقصد بھی در اصل یہی ہے۔

