کم عمری کی شادی کے خلاف آنگن واڑی سیوک کا حوصلہ مندانہ قدم، پولیس نے نابالغ کو تحفظ فراہم کیا

تاثیر 11 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سیتامڑھی۔ (مظفر عالم) کم عمری کی شادی کے خلاف آواز اٹھانا ایک آنگن واڑی سیوک کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ رونی سیدپور تھانہ حلقہ کے ایک گاؤں میں تقریباً 13 سالہ نابالغ لڑکی کی شادی ایک بالغ اور پہلے سے شادی شدہ شخص سے کرانے کی مخالفت کرنے پر آنگن واڑی سیوک کے ساتھ مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی سیتامڑھی پولیس کے انسانی اسمگلنگ مخالف یونٹ نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نابالغ لڑکی کی حفاظت یقینی بنائی ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سیتامڑھی امیت رنجن کی ہدایت پر انسانی اسمگلنگ مخالف یونٹ معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہا ہے۔ 6 اگست کو مختلف اخبارات میں شائع خبر کے ذریعے معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد انسانی اسمگلنگ مخالف یونٹ کے انسپکٹر کم برانچ انچارج سشیل کمار سنگھ نے فوری کارروائی شروع کی۔
ان کی قیادت میں پولیس انتظامیہ اور ادیتی کَوَچ پروجیکٹ کی مشترکہ ٹیم نے متعلقہ آنگن واڑی سیوک سے ملاقات کرکے واقعے کی معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد ٹیم نے مہیندوارہ تھانہ حلقہ میں واقع نابالغ کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ کی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حیدرآباد کے ایک نوجوان کی جانب سے نابالغ کے اہل خانہ کو مالی لالچ دے کر شادی کے لیے راضی کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ نابالغ کی بڑی بہن اور آنگن واڑی سیوک نے کم عمری کی شادی کی مخالفت کرتے ہوئے جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔
انسانی اسمگلنگ مخالف یونٹ اب متعلقہ نوجوان، اس کے رابطوں اور نابالغ کو شادی کے نام پر دوسری ریاست لے جانے کے ممکنہ خدشے سے جڑے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے جانچ کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق حاصل شدہ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس انسپکٹر سشیل کمار سنگھ نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ نابالغ لڑکی کی شادی کے بدلے رقم، بڑے گھرانے میں شادی، زمین یا کسی بھی طرح کے لالچ کے جھانسے میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کم عمری کی شادی کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسی کسی بھی تیاری، کوشش یا لالچ کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر مقامی پولیس یا متعلقہ محکمہ کو اطلاع دیں۔ بروقت اطلاع دے کر کسی بچے کو کم عمری کی شادی یا انسانی اسمگلنگ کے ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔