!جس کٹہرے میں کھڑے ہوکر خودی رام بوس نے لڑی تھی آزادی کی جنگ، وہی آج بدحالی کے کونے میں پڑا ہے

تاثیر 11 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور۔ (نزہت جہاں)امر شہید خودی رام بوس کی یومِ شہادت کے موقع پر منگل کی علی الصبح تقریباً ساڑھے چار بجے مرکزی جیل، مظفرپور میں انہیں عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا گیا۔ پھانسی گھاٹ پر منعقدہ تعزیتی تقریب میں تِرہت ڈویژن کے کمشنر گریور دیال سنگھ نے کہا کہ آزادی کی تحریک کی تاریخ میں خودی رام بوس جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی بے مثال مثال ہیں۔ قوم ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ لیکن ایک طرف جہاں ہر سال شہید خودی رام بوس کو خراجِ عقیدت پیش کرکے ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، وہیں دوسری جانب ان سے وابستہ تاریخی ورثے آج بدحالی کا درد جھیل رہے ہیں۔ مظفرپور کی وہ تاریخی عدالت کی عمارت، جہاں خودی رام بوس کے خلاف برطانوی حکومت نے مقدمہ چلایا تھا، آج سرکاری دفاتر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اسی عمارت میں فی الحال ضلع مائننگ دفتر اور ضلع عوامی شکایات کے ازالے کا دفتر چل رہا ہے۔ سب سے افسوسناک تصویر اس تاریخی لکڑی کے کٹہرے کی ہے، جس میں کھڑے ہوکر محض 18 سال کی عمر میں خودی رام بوس نے برطانوی حکومت کی عدالت میں اپنے مقدمے کا سامنا کیا تھا۔ آج وہی کٹہرا دفتر کے ایک کونے میں ٹکڑوں کی شکل میں خستہ حالی کا شکار پڑا ہے۔ جس تاریخی ورثے کو دیکھ کر نئی نسل حب الوطنی، جرأت اور قربانی کا سبق حاصل کرسکتی تھی، وہ عدم توجہی اور تحفظ کے فقدان کا شکار ہے۔ خودی رام بوس کی یومِ شہادت پر مغربی بنگال کے مدناپور سے آئے ان کے گاؤں کے لوگوں اور محققین نے مرکزی جیل پہنچ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس سیل میں بھی پھول پیش کیے گئے جہاں پھانسی سے قبل خودی رام بوس کو رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد پھانسی گھاٹ اور جیل احاطے میں نصب ان کے مجسمے پر بھی نم آنکھوں سے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ یوسف رضوان نے بتایا کہ 1905 میں بنگال کی تقسیم کے بعد خودی رام بوس انقلابی سرگرمیوں سے وابستہ ہوئے اور برطانوی حکومت کے خلاف تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ برطانوی جج ڈگلس کنگسفورڈ انقلابیوں کے نشانے پر تھے۔ 30 اپریل 1908 کو کنگسفورڈ کی بگھی سمجھ کر ایک بگھی پر بم پھینکا گیا، لیکن اس وقت کنگسفورڈ اس میں موجود نہیں تھے۔ دھماکے میں دو خواتین ہلاک ہوگئیں۔ واقعے کے بعد خودی رام بوس کو یکم مئی 1908 کو گرفتار کرلیا گیا۔ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی اور 13 جون 1908 کو انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ تقریباً 18 سال کی عمر میں اس نوجوان انقلابی نے 11 اگست 1908 کو مظفرپور جیل میں ملک کی آزادی کے لیے اپنے جان کی قربانی دے دی۔