اسکولی بچوں کی خوراک پر نگرانی

تاثیر 12 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی)نے اسکولوں میں بچوں کو فراہم کی جانے والی خوراک کے لئے نئے معیارات کا مسودہ جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ٹھوس کھانے میں 100 گرام پر 3 گرام سے زیادہ اضافی شکر ہو تو اسے ’ہائی شگر‘،  4.2 گرام سے زیادہ اضافی چربی ہو تو ’ہائی فیٹ‘ اور 0.625 گرام سے زیادہ نمک ہو تو ’ہائی سالٹ‘ قرار دیا جائے گا۔ مشروبات کے لئے الگ حدیں مقرر کی گئی ہیں: 100 ملی لیٹر میں 2 گرام سے زیادہ اضافی شکر، 1.5 گرام سے زیادہ چربی اور 0.175 گرام سے زیادہ نمک۔ یہ حدود آئی سی ایم آر کی 2024 کی غذائی رہنما خطوط کو بنیاد بنا کر تیار کی گئی ہیں۔
اس اقدام کی اہمیت اس بات سے عیاں ہے کہ اسکول کے اندر اور اسکول کے دروازے سے 50 میٹر کے دائرے میں زیادہ چربی، شکر اور نمک والی اشیاء کی فروخت اور اشتہارات پہلے سے ممنوع ہیں، مگر گائیڈ لائن میں پوری وضاحت نہیں ہونے کی وجہ سے ان پر عملدرآمد مشکل رہا۔ نیا مسودہ اسی خلاء کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔ ورلڈ اوبیسٹی اٹلس 2026 کے مطابق بھارت میں تقریباً 4.1 کروڑ بچے زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس پس منظر میں اسکول کینٹینز میں دستیاب خوراک کا معیار طے کرنا ایک منطقی قدم نظر آتا ہے۔ مہاراشٹر نے حال ہی میں اسی نوعیت کے سخت احکامات جاری کر کے تقریباً 1.08 لاکھ اسکولوں میں اس طرح کی اشیاء کی فروخت، مفت تقسیم اور اشتہارات پر پابندی عائد کر دی ہے، جو قومی سطح پر اس سوچ کی عملی مثال ہے۔
تاہم، اس مسودے کو مکمل طور پر مثبت یا منفی قرار دینا جلد بازی ہوگی۔ ایک طرف یہ واضح پیمائش فراہم کر کے نگراں اداروں کے لیے نگرانی کو آسان بنا سکتا ہے اور والدین کو بھی باخبر رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ دوسری طرف، اس کے نفاذ میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔ چھوٹے دکانداروں اور کینٹین چلانے والوں کے لئےنئے معیارات کے مطابق مینو تبدیل کرنا معاشی بوجھ بن سکتا ہے۔ اسی طرح، ’اضافی شکر‘ اور ’اضافی چربی‘ کی درست پیمائش اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کے انتظامات سب اسکولوں میں یکساں طور پر دستیاب نہیں۔ مسودے میں نمک اور سوڈیم کے درمیان تکنیکی فرق بھی موجود ہے؛ نمک میں تقریباً 40 فیصد سوڈیم ہوتا ہے، لہذا حدود کی وضاحت میں مزید شفافیت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، دیہی اور نیم شہری علاقوں کے اسکولوں میں صحت بخش متبادل اشیاء کی فراہمی اور ان کی لاگت بھی ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ مسودہ ابھی تجویز کے مرحلے میں ہے اور اس پر عوامی رائے کے لئے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں چلنے والا پیکجڈ فوڈز کی لیبلنگ کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ لہذا، حتمی شکل اختیار کرنے سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز،ماہرینِ غذائیت، اسکول انتظامیہ، والدین اور صنعت کے نمائندوںکے مشوروں کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ والدین کو بھی اپنے بچوں کی غذائی عادات کی نگرانی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ صرف اسکول تک محدود اقدامات سے آگے بڑھ کر گھر میں بھی صحت بخش انتخاب کو فروغ دیا جا سکے۔
بہر حال مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بچوں کی صحت کو درپیش خطرات کے پیش نظر واضح معیارات کا قیام ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مگر اس کی کامیابی صرف کاغذی حدود مقرر کرنے پر منحصر نہیں، بلکہ مؤثر نفاذ، آگاہی مہمات، اساتذہ کی تربیت اور متبادل صحت بخش اختیارات کی فراہمی پر منحصر ہوگی۔ اگر یہ اقدام صرف پابندیوں تک محدود رہا اور غذائی تعلیم و معاشی پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسلئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ وہ متوازن طریقہ کار اختیار کریں تاکہ بچوں کی صحت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق اور تمام طبقات کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے۔