تنزید کی سنچری اور شانتو کی نصف سنچری کی بدولت بنگلہ دیش کو آسٹریلیا پر 153 رنوں کی برتری

تاثیر 14 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈارون، 14 اگست: تنزید حسن تمیم کی شاندار پہلی ٹیسٹ سنچری اور کپتان نجم الحسن شانتو کی ذمہ دارانہ 84 رنز کی اننگز کی بدولت بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کے خلاف ڈارون ٹیسٹ کے دوسرے دن اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ دن کا کھیل ختم ہونے تک بنگلہ دیش نے 6 وکٹ پر 351 رنز بنا لیے تھے اور پہلی اننگز کی بنیاد پر آسٹریلیا کے خلاف 153 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
پہلی اننگز میں آسٹریلیا کو 198 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد بنگلہ دیش نے دوسرے دن اپنی اننگز 96 رنز ایک وکٹ سے آگے بڑھائی۔ مومن الحق اور تنزید حسن نے ابتدائی سیشن میں آسٹریلوی تیزگیندبازوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ سست پچ پر آسٹریلوی گیند باز مسلسل ہارڈ لینتھ پر گیندیں کرتے رہے، لیکن انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔
جوش ہیزل ووڈ نے مومن الحق کو 49 رنز پر ایلکس کیری کے ہاتھوں کیچ کرا کے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ مومن الحق نے 95 گیندوں کا سامنا کیا اور نصف سنچری سے صرف ایک رن دور رہ گئے۔
اس کے بعد تنزید نے کپتان شانتو کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھایا۔ تنزید نے پُراعتماد انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی پہلی ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کی اور پھر ناتھن لیون کی گیند پر چوکا لگا کر سنچری مکمل کر لی۔
تنزید نے 197 گیندوں پر 8 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 101 رنز بنائے۔ وہ آسٹریلیا کی سرزمین پر ٹیسٹ سنچری بنانے والے پہلے بنگلہ دیشی بلے باز بن گئے۔ شانتو کے ساتھ انہوں نے تیسری وکٹ کے لیے 93 رنز کی شراکت داری کی۔
تنزید کے آؤٹ ہونے کے بعد شانتو نے محاذ سنبھالے رکھا۔ انہوں نے پہلے نصف سنچری مکمل کی ۔ مشفق الرحیم کے ساتھ ان کی 66 رنز کی شراکت داری نے بنگلہ دیش کی برتری کو 100 رنز سے آگے پہنچا دیا۔
آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹیسٹ اننگز میں بنگلہ دیش کی جانب سے تین مرتبہ 50 سے زائد رنز کی شراکت داری صرف چوتھی بار ہوئی ہے۔ اس سے قبل ایسا آخری مرتبہ 2006 میں ہوا تھا۔دوسری نئی گیند ملنے کے بعد آسٹریلیا نے کچھ واپسی کی۔ ہیزل ووڈ نے شانتو کو 84 رنز پر اسٹیو اسمتھ کے ہاتھوں سیکنڈ سلپ میں کیچ کرا دیا۔ اس کے بعد مچل اسٹارک نے لٹن داس کو بغیر کوئی رن بنائے اسمتھ کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔