آبنائے ہرمز میں ایران کا دباؤ برقرار، زیادہ تر بحری جہاز امریکی دباؤ سے زیادہ تہران سے خوفزدہ

تاثیر 20 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

تہران ،20 اگست:آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر جہاز امریکی دباؤ کے مقابلے میں ایران کو ناراض کرنے سے زیادہ گریز کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی قائم کر رکھی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے جہاز آبنائے ہرمز کے مرکزی اور طے شدہ بحری راستوں سے گزرتے تھے تاہم موجودہ کشیدگی کے بعد یہاں 2 نمایاں راستے بن گئے ہیں۔ ایرانی راستہ ایران کے ساحل، لارک اور قشم جزائر کے قریب سے گزرتا ہے جبکہ عمانی راستہ عمان کے قریب اور ایرانی ساحل سے نسبتاً دور ہے، امریکہ تجارتی جہازوں کو عمانی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔