تاثیر 22 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
پچھلے کچھ عرصے میں دہلی کے جنتر منتر سے لے کرملک کے دوسرے کئی علاقوں میں طلبہ کی قیادت میں ہو ئے کئی کامیاب احتجاجوں نے قومی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سی جے پی اور دوسری طلبا تنظیموں کی قیادت میں نوجوانوں کی تحریکی سر گرمیاں اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی دباؤ نے مختلف سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کانگریس نے نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے تعلیم سے روزگار تک کا روڈ میپ تیار کرنے، ریاستی حکومتوں سے رپورٹ طلب کرنے اور طلبہ سے براہ راست مکالمہ کرنے سے متعلق راہل گاندھی کا مشورہ سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان میں سرکاری اسکولوں کی حالت پر سامنے آئے سرکاری اعدادوشمار نے پورے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ دونوں واقعات مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیم کا بحران اب محض انتظامی ناکامی نہیں رہا بلکہ سیاسی ترجیحات کا بھی حصہ بن چکا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق راجستھان حکومت نے اسمبلی میں خود اعتراف کیا ہے کہ صوبے میں 611 سرکاری اسکولوں کے پاس اپنی عمارت ہی نہیں ہے۔ ان میں دس گرلز اسکول بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ان اسکولوں میں سے ،جن کے پاس عمارت موجود ہے، 2,047 میں بیت الخلا اور 1,049 میں پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے۔ جے پور میں ہی 38 اسکول عمارت کے بغیر چل رہے ہیں۔ جھالاواڑ، بانسواڑا، ڈونگر پور اور ادی پور جیسے اضلاع میں صورتحال مزید خراب ہے۔ یہ اعدادوشمار یو ڈی آئی ایس ای 2025-26 کے ڈیٹا پر مبنی ہیں اور اس وقت سامنے آئے ہیں، جب سی جے پی کی ٹیمیں گزشتہ روز اسکولوں کی زمینی حقیقت کا معائنہ کر رہی تھیں اور اسی دوران ایک ٹیم کے لوگوں پر حملے کا واقعہ بھی پیش آیا۔
ظاہر ہے،یہ صورتحال صرف راجستھان تک محدود نہیں ہے۔ ملک بھر میں سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری بار بار اجاگر ہوتی رہی ہے۔ غریب گھرانوں کے بچے ہی زیادہ تر ان اسکولوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جب کلاس روم نہیں، بیت الخلا نہیں اور پینے کا پانی نہیں تو معیاری تعلیم کی بات محض نعرہ جیسی لگنے لگتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مرمت و تجدید کے لئے 550 کروڑ اور نئی عمارتوں کے لیے 450 کروڑ روپے کا بندوبست کیا جا رہا ہے، جبکہ پانچ سال میں 12,500 کروڑ روپے خرچ کرنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں اسکولوں کو پہلے ہی غیر محفوظ قرار دے کر انھیں لگ بھگ بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے بے شمار بچوں کا داخلہ متاثر ہوا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی سطح پر یہ بحران جماعتوں کے رویے میں تبدیلی لا نے کا باعث بنا ہے۔ کانگریس نے نوجوانوں کے مسائل کو براہ راست اٹھانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ راہل گاندھی کا پیلٹ گن سےزخمی طالب علم کے ساتھ سنسد مارگ تھانے کے باہر دھرنا دینا، جھارکھنڈ میں اتحادی حکومت ہونے کے باوجود طلبہ کا ساتھ دینا اور راجستھان میں اسمبلی میں اسکولوں کی حالت پر آواز اٹھانا اس نئی حکمت عملی کے حصے ہیں۔ دوسری طرف بر سر اقتدار جماعتوں پر الزام ہے کہ وہ ان مسائل کو ٹالتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کو سڑکوں پر اترنے کے لئے مجبور ہونا پڑا ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم پہلو غریب بچوں کی تعلیم کا ہے۔ سرکاری اسکول ہی ان کی واحد امید ہیں۔ اگر بنیادی سہولتیں مہیا نہ ہوں تو سماجی و معاشی فرق مزید گہرا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اب نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا سیاسی مزاج کی یہ تبدیلی محض الیکشن کی تیاری کے تناظر میں سامنے آرہی ہے یا اس میں زمینی سطح پر اصلاحات کا پہلو بھی مضمر ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دی جائے، شفاف نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور مقامی کمیونٹیز کو اسکولوں کے انتظام میں شامل کیا جائے۔ طلبہ کے احتجاج نے جو آواز اٹھائی ہے، اسے سیاسی فائدے کے بجائے قومی ترجیح کے طور پر لینا بہتر ہوگا۔ غریب بچوں کو معیاری تعلیم دئے بغیر نہ تو سماجی انصاف ممکن ہے اور نہ ہی ملک کی حقیقی ترقی۔ سیاسی جماعتوں کو اس موقع پر صرف بیانیہ گڑھنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اگلی نسل کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔آج کا سب سے اہم کام یہی ہے!
***************

