عشاء کی نماز کے لیے وضو کرنے گئے معذور نوجوان کی تالاب میں ڈوبنے سے موت

تاثیر 23 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

 سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفیٰ) سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے شکرپور گاؤں کے وارڈ نمبر-3 میں ہفتہ کی دیر شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے عشاء کی نماز ادا کرنے مسجد گئے 24 سالہ معذور نوجوان کی تالاب میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ متوفی کی شناخت شکرپور گاؤں وارڈ نمبر-3 باشندہ مرحوم تنویر عالم کے 24 سالہ بیٹے مزمل اقبال کے طور پر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مزمل عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد گئے تھے۔ نماز سے قبل وہ تالاب کے کنارے واقع چاپاکل پر وضو کرنے پہنچے۔ اسی دوران اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ تالاب میں بنی سیڑھیوں پر گر کر گہرے پانی میں چلے گئے ادھر نماز ادا کرنے کے بعد جب نمازی مسجد سے باہر نکلے تو چاپاکل کے پاس مزمل کا واکر اور چشمہ رکھا ہوا دیکھا، لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ اس کے بعد لوگوں کو ان کے تالاب میں ڈوبنے کا خدشہ ہوا۔ مقامی لوگوں نے کشتی کی مدد سے تالاب میں ان کی تلاش شروع کی۔ تقریباً ایک گھنٹے کی سخت محنت کے بعد مزمل کی لاش تالاب سے باہر نکالی گئی۔ لاش ملنے کی خبر پھیلتے ہی موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ اطلاع ملنے پر سِنگھواڑہ تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قبضے میں لے کر پنچ نامہ تیار کیا۔ اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد پولیس نے ضروری کارروائی مکمل کرکے لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی۔ مزمل گھر کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ کانگریس کے بلاک صدر ارشاد عالم اور وارڈ ممبر نمائندہ دلشاد احمد نے بتایا کہ مزمل کے والد کا تقریباً چار سال قبل انتقال ہو چکا تھا۔ اس کے بعد ان کی والدہ حسرت آرہ ہی بیٹے کی پرورش کر رہی تھیں۔ بیٹے کی موت کے بعد ماں گہرے صدمے میں ہیں اور ان کا رو رو کر برا حال ہے۔واقعہ کے بعد پورے گاؤں میں سوگ کی فضا ہموار ہو گئی۔اہل خانہ کی چیخ و پکار سے ماحول غمگین ہو گیا۔ تھانہ صدر بسنت کمار نے بتایا کہ معاملے میں یو ڈی کیس درج کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے