! باہمی تعاون سے ہی خوشحالی ممکن

تاثیر 23 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

روس کے نائب وزیر اعظم مارات خس نولین کی حالیہ تصدیق نے خطے میں ایک نئے موضوع پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق روس، ازبکستان، ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے راستے بحر ہند تک ریلوے لائن بچھانے پر غور کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا نام روس وسط ایشیابحر ہند ریلوے کارڈور تجویز کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی محض ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی کوئی حتمی روٹ، بجٹ یا ٹائم لائن طے نہیں ہوئی، تاہم اس کے ممکنہ اثرات بھارت کے اسٹراٹیجک اور تجارتی مفادات پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ روس کے لئے سمندری راستوں، بالخصوص آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں سے بچ کر زمینی تجارت کا متبادل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ حالیہ برسوں میں روس اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پاکستان نے روسی تیل کی رعایت پر خریداری کی اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سمندری تجارت بھی بڑھ رہی ہے۔ روس کی فیڈریشن کونسل کی چیئر پرسن ویلنٹینا میتوینکو نے پاکستان کو ایشیا میں روس کا اہم پارٹنر قرار دیا ہے۔ پاکستانی سینیٹر مشاہد حسین نے اس کارڈور کو سویز کینال سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سامان کی ترسیل کا وقت 35 دن سے گھٹا کر محض پانچ دن کر سکتا ہے اور اسے “سویز کینال پلس” کا نام دیا گیا ہے۔
تاہم، اس پرامید تصویر کے پیچھے سنگین حقیقتیں بھی موجود ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دنیا کے دو انتہائی غیر محفوظ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے، جبکہ پاکستان میں دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کے خدشات برقرار ہیں۔ کسی بھی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کی کامیابی کےلئے پائیدار امن اور ادارہ جاتی استحکام ناگزیر ہے، جو فی الحال ان دونوں ممالک میں محدود نظر آتا ہے۔ اس لئے یہ کارڈور کاغذ پر جتنا پرکشش ہے، عملی طور پر اتنے ہی چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔
بھارت کے لئے سب سے بڑی تشویش چابہار پورٹ پروجیکٹ پر پڑنے والے ممکنہ اثرات ہیں۔ بھارت برسوں سے ایران کے چابہار بندرگاہ کو وسط ایشیا اور یورپ تک تجارت کا متبادل راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر روسی ریلوے کارڈور حقیقت بن جاتا ہے تو وسط ایشیائی اور یورپی ممالک چابہار کے بجائے اس نئے زمینی راستے کو ترجیح دے سکتے ہیں، جس سے بھارت کے اس اہم پروجیکٹ کی افادیت پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، روس اور پاکستان کے قریب آنے سے خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو ماضی میں روس کی بھارت نواز پالیسی سے مختلف ہے۔
اس کے باوجود، بھارت کو مایوسی کے بجائے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنانی چاہئے۔ چابہار پروجیکٹ کی رفتار تیز کرنے، انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کارڈو ر (آئی این ایس ٹی سی) کو مزید فعال بنانے اور وسط ایشیا کے ساتھ براہ راست رابطے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، روس کے ساتھ روایتی تعلقات کو بھی احتیاط سے نبھانا ہوگا تاکہ اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رہے۔ بھارت کی جغرافیائی حیثیت، اقتصادی طاقت اور جمہوری استحکام اسے خطے میں ایک اہم کھلاڑی بناتے ہیں، بشرطیکہ وہ بروقت اور مربوط اقدامات کرے۔
روسی منصوبہ ابھی صرف ایک امکان ہے۔ اس کی تکمیل میں سالوں لگ سکتے ہیں اور سیکیورٹی، مالیاتی اور سیاسی رکاوٹیں اسے متاثر کر سکتی ہیں۔ تاہم، یہ واقعہ بھارت کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ خطے میں کنیکٹیویٹی کی دوڑ تیز ہو رہی ہے۔ بھارت کو اپنے اقتصادی اور اسٹراٹجک مفادات کے تحفظ کے لئے پیش قدمی کرنی ہوگی، ورنہ اس کے اہم پروجیکٹس پیچھے چھوٹ جائیں گے۔ خطے کی حقیقی استحکام اور خوشحالی تبھی ممکن ہے جب تمام ممالک باہمی تعاون اور احترام کے اصولوں پر کام کریں، نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف صف بندی کریں۔