ایران جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتی عملے کی واپسی کی تیاری

تاثیر 25 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن، 25 اگست: ایران کے ساتھ جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک سے سفارتی عملہ واپس بلانے کے بعد امریکا نے اب خطے میں اپنے سفارتی مشنز میں عملے کی دوبارہ تعیناتی کی تیاری شروع کردی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اندرونی دستاویز کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ عمل رواں ہفتے شروع ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ مشرقِ وسطیٰ میں بعض سفارتخانوں کے لیے ہنگامی حفاظتی اقدامات میں بھی بتدریج کمی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو اس بات کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن کو فوری طور پر ایران کے ساتھ دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ کم محسوس ہو رہا ہے۔دستاویز کے مطابق اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، قطر، اردن، عمان، عراق اور کویت میں قائم امریکی سفارتی مشنز میں عملے کی تعداد دوبارہ بڑھائی جائے گی۔
منصوبے کے تحت لبنان میں امریکی سفارتخانے سے سفارتی اہلکاروں کی واپسی کا عمل پہلے شروع ہوگا، تاہم وہاں عملے کی تعداد فوری طور پر مکمل سطح تک نہیں پہنچے گی۔ دوسری جانب اسرائیل، اردن اور عمان میں امریکی سفارتی عملے کو بالآخر مکمل سطح پر بحال کرنے کا منصوبہ ہے۔متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور لبنان میں ابتدائی طور پر سفارتی عملے کی تعداد تقریباً 85 فیصد تک رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ عراق، کویت اور بحرین میں یہ حد 75 فیصد مقرر کی گئی ہے۔امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر فروری میں مشرقِ وسطیٰ کے اپنے سفارتی مشنز میں عملے کی تعداد کم کرنا شروع کی تھی۔ اسرائیل میں غیر ہنگامی امریکی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔