تاثیر 27 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نیپال میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ سیلاب کی اس تباہی نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا ہے کہ قدرت کے سامنے انسانی طاقت کتنی محدود ہے۔ بدھ کے روز تبت کی سرحد کے قریب بھوٹے کوشی ندی کی معاون ندی لہینڈے میں اچانک آیا سیلاب پانی، مٹی اور پتھروں کی دیواریں بن کر رسیوا، نوواکوٹ، دھادنگ،چتون اور گرد و نواح کے کئی اضلاع میں پھیل گیا ۔اس کا نتیجہ اس شکل میں سامنے آیا ہے کہ تادم تحریر موصول رپورٹ کے مطابق مرنے والوں کی تعداد دو سو ستر سے زائد ہو چکی ہے۔جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد ایک ہزار کے آس پاس بتائی جا رہی ہے۔ ان لاپتہ افراد میں بھارتی شہریوں کی تعداد دو سو اٹھاسی ہے جن میں کیلاش مانسروور یاتریوں کے کئی گروپ بھی شامل ہیں۔ یہ سیلابی آفت نہ صرف انسانی جانوں بلکہ پلوں، سڑکوں، ہائیڈرو پاور منصوبوں اور بینک شاخوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے گئی ہے ۔
اس المناک صورتحال میں بھارت نے فوری اور مؤثر ردعمل کا اظہار کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق دو دنوں کے اندر سینکڑوں ٹن امدادی سامان نیپال بھیجا جا چکا ہے۔ سی-130 جے اور سی-17 طیاروں کے ذریعے چالیس سے زائد ٹن ادویات، خوراک، عارضی رہائش اور دیگر ضروری اشیاء پہنچائی جا چکی ہیں۔ بھارتی سفارت خانے نے ہیلپ لائن نمبرز جاری کیے اور نیپال و بیجنگ میں موجود مشن مسلسل رابطے میں ہیں۔ اب تک اکیس بھارتی یاتریوں کو محفوظ بچا لیا گیا ہے جبکہ دیگر لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپالی ہم منصب سے رابطہ کر کے واضح کیا ہےکہ مشکل گھڑی میں بھارت اپنے ہمسایہ بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ محض سرکاری اقدام نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور جذباتی رشتے کی عکاسی ہے۔
بھارت کے تمام شہری اس دکھ کی گھڑی میں نیپال کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ چاہے وہ کیلاش مانسروور کے یاتری ہوں یا عام سیاح، یا پھر وہ نیپالی بھائی بہن جن کے گھر بار بہہ گئے، سب کی تکلیف ہمارے دلوں میں گونج رہی ہے۔ بھارتی معاشرے نے ہمیشہ آفات کے وقت انسانی ہمدردی کو قومیت سے بالاتر رکھا ہے۔ آج بھی یہی جذبہ زندہ ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر عام گلی محلے تک ہر طرف نیپال کے لیے دعائیں اور امدادی پیشکشیں نظر آ رہی ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب سرحدیں، زبانیں اور مذہب ایک طرف رہ جاتے ہیں اور صرف انسانیت باقی رہتی ہے۔
اس آفت نے ایک اہم سبق بھی دیا ہے۔ ہمالیہ کا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلیشئر پگھلنے کے خطرات سے دوچار ہے۔ اچانک سیلاب کی پیشگی خبر رسانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ نیپال اور چین کے درمیان معلومات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ بھارت بھی علاقائی سطح پر تعاون کو مزید فعال بنا سکتا ہے۔ تاہم اس گھڑی میں تجزیہ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ تلاش و بچاؤ کے آپریشن تیز سے تیز جاری رہنے چاہئیں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد پہنچائی جانی چاہئے۔
نیپال ہمسایہ ہے، دوست ہے اور بھارت کا ایک حصہ سا ہے۔ اس کی تکلیف ہماری تکلیف ہے۔ بھارتی حکومت کی بروقت امداد قابل ستائش ہے مگر اس سے زیادہ اہم ہے عام شہریوں کا وہ جذبہ جو سرحد پار تک پہنچ رہا ہے۔ امید ہے کہ جلد از جلد تمام لاپتہ افراد کی تلاش
مکمل ہوگی، زخمی صحت یاب ہوں گے اور متاثرہ علاقے باز آباد کاری کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ دکھ کی اس گھڑی میں بھارت اور نیپال ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ یکجہتی ہی مستقبل کے چیلنجز کا سب سے بڑا حل ہے۔
****

