نیپال اب نفسیاتی بحران کی زد میں

تاثیر 01 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نیپال گزشتہ دس برسوں کی سب سے تباہ کن سیلابی آفت سے دوچار ہے۔ مرنے والوں کی تعداد900 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ تقریباً 4ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، بستیاں، گھر، سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی  تباہی کے اس منظرنامے میں اب ایک اور بحران سامنے آ رہا ہے، جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ یہ بحران نفسیاتی صحت کا ہے۔ بچے رات کو برے خوابوں سے جاگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سیلاب پھر آ گیا ہے۔ بڑے خوف، بے چینی اور اچانک چونکنے جیسی کیفیات سے دوچار ہیں۔ بچھڑے ہوئے خاندان ایک دوسرے کو تلاش کرنے کی بے تابی میں مبتلا ہیں۔ یہ علامات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ نیپال اب نہ صرف  بنیادی ڈھانچے کی باز آباد کاری بلکہ نفسیاتی صحت کی بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
نیپال حکومت نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے متاثرہ اضلاع خصوصاً رَسُوا اور نُواکوٹ میں تقریباً پچاس ماہر نفسیات،  اورسوشل سائیکولاجسٹ کو متاثرین کی کاؤنسلنگ کےلئے تعینات کیا ہے۔ باگماتی صوبے میں مزید چونسٹھ تربیت یافتہ مشیر تیار رکھے گئے ہیں۔ صحت خدمات محکمے کی سینئر مشیر پوماوتی تھاپا کے مطابق ابتدائی مرحلے میں نفسیاتی باز آبادکاری پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے۔ دور دراز اور سڑک سے غیر منسلک علاقوں میں بھی ٹیمیں بھیجی جا رہی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 22 ہزار سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ نپال ریڈ کراس سوسائٹی، سینٹر فار مینٹل ہیلتھ اینڈ کاؤنسلنگ نپال اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون بھی حاصل ہے۔
ہیلپ لائنز کے ذریعے بھی رسائی بڑھا دی گئی ہے۔1115 ہاٹ لائن کے توسط سےبڑے پیمانے پر صحت عامہ سے متعلق  مشورے کے ساتھ بنیادی سماجی نفسیاتی مدد فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ 1186 سروس مخصوص طور پر نفسیاتی مشاورت کے لئے وقف ہے۔ بچوں کے لئے 1098 چائلڈ ہیلپ لائن بھی فعال ہے۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ متاثرین ابھی صدمے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ نُواکوٹ میں کام کرنے والے ماہر نفسیات گوپال بوہرا کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ صدمے کی حالت میں ہیں اور اپنی مشکلات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بچے رات کو بار بار جاگتے ہیں، برے خواب دیکھتے ہیں اور روتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیلاب واپس آ گیا ہے۔ بڑوں میں شدید خوف اور بے چینی نمایاں ہے۔
ماہرین نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ نفسیاتی اثرات فوری بحران کے تھم جانے کے بعد زیادہ شدت  کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں۔ اس وقت ترجیح حفاظتی اور بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔ جو لوگ پہلے سے نفسیاتی بیماری کا علاج کروا رہے تھے ان کے لئے ایمرجنسی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ نیند کی شدید مشکلات والے افراد کو بھی فوری مدد دی جا رہی ہے۔ رسمی مشاورت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ بہت سے بڑے افراد مدد کرنے والوں سے بات کرنے میں ہچکچا رہے ہیں، جبکہ بچے نسبتاً زیادہ کھلے ہیں۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قدرتی آفات کے بعدبنیادی ڈھانچے کی تباہی صرف ایک پہلو ہوتی ہے۔ گمشدہ افراد کی تلاش، بے گھر ہونے کا صدمہ، کمیونٹی کے بکھرنے کا درد اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر ان علامات کو بروقت نہیں سنبھالا گیا تو پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر، ڈپریشن اور طویل مدتی اضطراب جیسے مسائل معاشرے میں گھر کر سکتے ہیں۔ بچوں پر خاص توجہ ضروری ہے کیونکہ ان کے ذہنی صدمے ترقی اور تعلیم پر دیرپا اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔
بہر حال ،نیپال کی حکومت اور متعلقہ اداروں نے ابتدائی ردعمل میںنفسیاتی صحت کی بحالی کو شامل کر کے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے۔ تاہم یہ صرف آغاز ہے۔ طویل مدتی منصوبہ بندی، کمیونٹی بیسڈ سپورٹ سسٹم، مقامی رضاکاروں کی تربیت اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔البتہ سیلاب کی تباہی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں نفسیاتی صحت کو ثانوی نہیں بلکہ بنیادی ترجیح بنانا ہوگا۔ اگر یہ خاموش بحران نظر انداز ہوا تو بنیادی ڈھانچے کی از سر نوبحالی کے باوجود معاشرہ مکمل طور پر کھڑا نہیں ہو سکے گا۔
************