بہار میں سیلاب کا دُہر ا خطرہ

 

بہارابھی تک سیلاب کی زد سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔ گنگا، گنڈک، کوسی، بوڑھی گنڈک، پُن پُن اور باگمتی سمیت کئی دریا ابھی بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں۔ پٹنہ سمیت ریاست کے پندرہ اضلاع کے87 بلاکس اور575 گرام پنچایتوں میں قریب 47.82 لاکھ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ کے ریلیف ورک میں مزید تیزی لائے جانے کی اطلاع ہے۔مگر اسی درمیان اب ایک نیا خطرہ سامنے آیا ہے۔ پانی کے تیزی سے گھٹنے سے کناروں کے اچانک کٹاؤ کا اندیشہ بڑھ گیا ہے، جس پر واٹر ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی احتیاط کے احکامات جاری کیے ہیں۔
آفت کے اس مرحلے میں حکومت کی جانب سے ریلیف کی کوششیں جاری ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ابھی بھی ایک ہزار دو سو پینتالیس کمیونٹی کچن چل رہے ہیں، جن سے اب تک تہتر لاکھ تیس ہزار تھالیاں تقسیم ہو چکی ہیں۔ تیرہ ریلیف کیمپوں میں بارہ ہزار دو سو ساٹھ لوگ رہائش پذیر ہیں ،ساتھ ہی کھانے اور طبی سہولتیں حاصل کر رہے ہیں۔ تین لاکھ پچاس ہزار پولی تھین شیٹس، سینتالیس ہزار سو خشک راشن پیکٹ اور چودہ سو فوڈ پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ایک ہزار آٹھ سو چالیس کشتیاں چلائی جا رہی ہیں۔ مویشیوں کے لئے گیارہ ہزار دو سو چار کوئنٹل چارہ بھی دیا گیا ہے۔ ایس ڈی آر ایف کی ستائیس اور این ڈی آر ایف کی دس ٹیمیں مختلف اضلاع میں تعینات ہیں۔
دریاؤں کی صورتحال تشویشناک ہے۔ گنڈک ڈمریا گھاٹ، کوسی بلتارا اور کرسیلا، بوڑھی گنڈک کھگڑیا، گنگا دیگھا، گاندھی گھاٹ، ہاتھیدہ، بھاگلپور، کہلگاؤں اور مونگیر میں خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔پُن پُن شری پالپور، باگمتی بینی باد اور گھاگرا درولی و گنگ پور سیسوان میں بھی یہی حال ہے۔ والمیکی نگر بیراج پر گنڈک کا بہاؤ پچھتر ہزار پانچ سو کیوسک اور ویر پور بیراج پر کوسی کا ایک لاکھ تینتالیس ہزار چھ سو پینسٹھ کیوسک ریکارڈ ہو اہے۔ اس سال کوسی کا سب سے زیادہ بہاؤ بیس جولائی کو دو لاکھ پچپن ہزار چار سو پچیس کیوسک تھا، جبکہ سون کا دو ستمبر کو پانچ لاکھ تریسٹھ ہزار چھ سو چوون کیوسک۔
اب اصل تشویش پانی کی تیزی سے کمی ہے۔ واٹر ریسورس ڈیپارٹمنٹ نے سڈن ڈراؤ ڈاؤن کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔ پانی اچانک گھٹنے سے کناروں پر تیز کٹاؤ شروع ہو سکتا ہے، جو حساس ساحلی علاقوں اور باندھوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ افسران کو حساس کناروں، کٹاؤ والے مقامات اور کمزور جگہوں کی مسلسل نگرانی اور گشت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کٹاؤ، کنارے دھنسنے یا دریا کے بہاؤ کے کنارے کی طرف تیزی سے بڑھنے کے اشارے ملتے ہی فوری معائنہ اور حفاظتی کارروائی شروع کرنے کا حکم ہے۔ کٹاؤ کی اطلاع میں تاخیر نہ کرنے اور وسائل پہلے سے تیار رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
یہ صورتحال بہار کے لئے کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر سال سیلاب آتا ہے، پانی بڑھتا ہے، لوگ متاثر ہوتے ہیں، ریلیف تقسیم ہوتا ہے اور پھر پانی گھٹنے پر نئے خطرات جنم لیتے ہیں۔ باندھوں کی کمزوری، دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی کمی اس چکر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بار موسم کا اندازہ یہ ہے کہ اگلے دو دن زیادہ تر علاقوں میں بادل چھائے رہیں گے اور تیز ہوائیں
چلیں گی، اس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔
انتظامیہ کوموجودہ حالات میں صرف ریلیف پر توجہ دینے کی بجائے کٹاؤ والے مقامات کی نگرانی مضبوط کرنی چاہئے۔ مقامی لوگوں کو بروقت الرٹ بھیجنے کا نظام فعال رکھنا ضروری ہے۔ طویل مدتی طور پر دریاؤں کے بیسن مینجمنٹ، مضبوط باندھوں کی تعمیر اور سیلاب سے بچاؤ کے پائیدار منصوبوں پر کام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ بہار کے لاکھوں لوگ ہر سال اس آفت کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر پانی بڑھنے اور گھٹنے دونوں مرحلوں میں یکساں چوکسی نہ برتی گئی تو نقصان بڑھتا رہے گا۔ایسے میںو اٹر ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایات درست سمت میں ہیں، مگر ان پر عمل درآمدکو یقینی بنا نا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔