تاثیر 14 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیا ہے، جو نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کےلئے بلکہ عالمی برادری کے لئے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دہلی میں مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، ماہرین تعلیم اور کاروباری شخصیات کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پچھلے دنوں انہوں نے کہا کہ ایران دھونس اور غرور کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے قومی مفادات کے دفاع کےلئے مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔ ان کا یہ موقف اس وقت سامنے آیاہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
پزشکیان نے اپنے پیغام میں امن و بقائے باہمی کے لئے ایران کے عزم کو واضح کیا۔ انہوں نے خلیج کے علاقے میں پرامن بقائے باہمی کی خواہش کا اظہار کیا اور ان غیر ملکی قوتوں کو شکست دینے کا عہد کیا جو ایرانی معاشرے میں تفریق کے بیج بو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ظلم کے آگے نہیں جھکیں گے۔ہم اسرائیل اور امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم دھونس میں نہیں آئیں گے۔ اگر وہ ہم پر دباؤ ڈالیں گے تو ہم بھی انہیں سخت جواب دیں گے۔‘‘ یہ الفاظ صرف جذباتی نہیں بلکہ ایک قوم کی اجتماعی عزیمت کی عکاسی کرتے ہیں، جو دہائیوں سے پابندیوں، حملوں اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
ایرانی صدر نے امریکہ اور اسرائیل کی فوجوں کو’’اصلی دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے جنوبی ایران میں ایک پرائمری اسکول کے قریب امریکی حملے کا ذکر کیا، جس میں ایک سو اڑسٹھ بچے شہید ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی مثال ہے ،جہاں شہری اہداف، خاص طور پر معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پزشکیان نے درست طور پر کہا کہ انہیں اسپتالوں، بنیادی ڈھانچے اور لوگوں کی روزی روٹی کو نشانہ بنانے کے بجائے ایرانی فوجیوں سے لڑنا چاہئے۔ ان کا خیال ہے کہ ضروری اشیاء کی کمی سے لوگ ہار مان لیں گے لیکن ایرانی قوم ہار نہیں مانے گی۔ یہ بات ایران کی تاریخ اور اس کے لوگوں کے جذبے سے ثابت ہوتی ہے۔واضح ہو کہ ایرانی عوام نے پابندیوں کے باوجود اپنی خود مختاری برقرار رکھی ہے اور خارجی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکارکر دیا ہے۔
پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو ایک بے لگام جنگلی گھوڑے پر سوار ہونے سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے والے تباہی اور جہنم کی آگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اللہ نے ایرانیوں، چینیوں، ہندیوں اور دیگر قوموں کو پیدا کیا ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا ہے۔ یہ بیان نہ صرف مذہبی اور اخلاقی پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی امن اور تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں، جہاں طاقتور ممالک کمزور قوموں پر دباؤ ڈالتے ہیں، ایران کا یہ موقف ایک مثال بن سکتا ہے۔ بہت سے ممالک کو ایران سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایران نے اپنے وقار کے لئے سر کٹوایا ہے لیکن سر نہیں جھکایا۔ یہ جذبہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ ان تمام قوموں کے لئے مشعل راہ ہے جو آزادی اور خود مختاری چاہتی ہیں۔
ایران کی یہ پالیسی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قومی مفادات کی حفاظت کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحیت، پابندیاں اور حملے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں، لیکن ایرانی قیادت اور عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ پزشکیان کے الفاظ میں امن کی خواہش بھی ہے اور دفاع کا عزم بھی۔ وہ چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو لیکن ظلم کے آگے سر جھکانے کے لئے وہ ہر گز تیار نہیں ہیں۔
ایرانی صدر کی اس تقریر کا پیغام واضح ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ جن قوموں نے اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا ہے وہ تاریخ میں یاد رکھی جائیں گی۔ ایران آج اسی راستے پر گامزن ہے۔ اس کا موقف نہ صرف اپنے لوگوں کے لئے امید کی کرن ہے بلکہ ان تمام ممالک کے لئے بھی جو سامراجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ انسانی اقدار کی بنیاد پر فیصلے کرے نہ کہ طاقت کی سیاست پر۔ ایران کا یہ اعلان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ حقیقی طاقت صرف فوجی برتری میں نہیں بلکہ قوم کے عزم اور غیر متزلزل موقف میں ہوتی ہے۔ پزشکیان کے الفاظ میں آج کے دور کاایک اہم پیغام مضمر ہے اور وہ یہی پیغام ہے کہ ظلم کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا ہی قوموں کی بقا کا راستہ ہے۔
**************

