تاثیر 15 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
لکھنؤ/مہوبا، 15 ستمبر: ہمارے گاؤں میں پہلے خواتین کو پانی کے لیے تالابوں، کنوؤں اور ہینڈ پمپوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔اس میں کئی کئی گھنٹے صرف ہو جاتے تھے اور کافی محنت بھی لگتی تھی۔ کئی مرتبہ تو پانی بھرنے کو لے کر تنازعہ اور مارپیٹ تک کی نوبت آ جاتی تھی۔ اتنی محنت کے باوجود صاف پانی ملنا کسی خواب سے کم نہیں تھا اور بچے، بزرگ بیماریوں میں گھرے رہتے تھے۔ لیکن اب جل جیون مشن کی ’ہر گھر نل‘ اسکیم نے پانی کی یہ مشکل ہمیشہ کے لیے دور کر دی ہے۔ اب کافی وقت بچتا ہے اور صاف پینے کا پانی مل رہا ہے۔ یہ کہنا ہے مہوبا ضلع کے چرکھاری ترقیاتی بلاک کی گرام پنچایت کمل کھیڑا (شیوہر) کے پردھان راجو کا۔
گرام پردھان راجو نے بتایا کہ چرکھاری بلاک میں پینے کے پانی کا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ خواتین کو پانی کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا تھا، یہ ہم سے پوچھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست اور مرکز میں بی جے پی حکومتوں کے ذریعہ جل جین مشن کے نفاذ کو لے کر کی جا رہی کوششوں سے اب ہمارے گاؤں اور بلاک میں پانی کا مسئلہ پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔ اب صبح و شام باقاعدگی سے پانی آتا ہے اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔ سب سے زیادہ خوش خواتین ہیں، کیونکہ انہیں ایک گھڑا پانی بھرنے کے لیے گھنٹوں میلوں پیدل چلنا پڑتا تھا۔

