تاثیر 19 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 18 ستمبر:ٹیلی مواصلات سے متعلق ہندوستان کی انضباطی اتھارٹی(ٹرائی) نے اسپیم کال اور غیر مطلوبہ تجارتی پیغامات (یو سی سی) پر روک لگانے کے لیے ضوابط میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے ضابطوں کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نگرانی، اسپیم کال کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی، صارفین کے لیے اپیل کا انتظام اور روبو کال پر قابو پانے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارت مواصلات کے مطابق ٹرائی نے ’ٹیلی مواصلاتی تجارتی مواصلات سے متعلقصارفین کی ترجیحات (تیسری ترمیم) ضوابط، 2026‘ نافذ کر دیے ہیں۔ اس کے تحت ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو اے آئی اور مشین لرننگ کی مدد سے اسپیم کال کرنے والے نمبروں کی شناخت کرکے انہیں آپس میں شیئر کرنا ہوگا۔ اگر کسی بھیجنے والے سے وابستہ پانچ یا اس سے زیادہ نمبر 10 دن کے اندر مشتبہ پائے جاتے ہیں تو اس کے خلاف جانچ اور مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔
ترمیم شدہ ضوابط میں ’ایپلی کیشن ٹو پرسن‘ (اے ٹو پی) کالز کو بھی ضابطے کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ اب آٹو ڈائلر، روبو کال اور ریکارڈ شدہ آواز کے ذریعے کی جانے والی کالز کے لیے پیشگی اعلان کرنا لازمی ہوگا۔ بغیر پیشگی اطلاع کے کی جانے والی ایسی کال کو غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات تصور کیا جائے گا۔

