تاثیر4 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 4 اکتوبر:نائب صدر سی پی رادھاکرشنن نے کہا ہے کہ اچھی حکمرانی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عوامی بھروسے کو برقرار رکھنے والا ایک ایسا نہ نظر آنے والا ڈھانچہ ہے، جو کسی بھی مضبوط نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو تبدیل کر سکتی ہے، لیکن دیانت داری، جواب دہی، شفافیت اور ذمہ داری ہمیشہ انسانی اقدار ہی رہیں گی۔ انہوں نے کمپنی سکریٹریوں کو اچھی حکمرانی کے نگہبان اور بھارتی کمپنیوں کے اعتماد کے نظام کا اہم مرکز قرار دیا۔
نائب صدر اتوار کو یہاں بھارت منڈپم میں انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا (آئی سی ایس آئی) کے 58ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ادارے کے تقریباً چھ دہائیوں پر محیط سفر کو سراہتے ہوئے شفاف، اخلاقی اور جامع کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانے میں اس کے کردار کی تعریف کی۔ تقریب میں آئی سی ایس آئی کے صدر سی ایس پون چندک، راجیہ سبھا کی سابق رکن ڈاکٹر سونل مان سنگھ اور ادارے کے سکریٹری سی ایس آشیش موہن سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی شہریوں کی فلاح و بہبود اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ جب لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں تو وہ ذمہ دار حکمرانی کی توقع رکھتے ہیں۔ اسی طرح سرمایہ کار بھی چاہتے ہیں کہ کمپنیاں بہتر کارپوریٹ گورننس کے ذریعے ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔ بھارتی کمپنی سکریٹریز کا ادارہ روایتی قانونی تقاضوں کی تکمیل سے آگے بڑھ کر اچھی حکمرانی کو مضبوط بنانے والا ایک اہم ادارہ بن چکا ہے۔

