تاثیر4 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 4 اکتوبر: نئی دہلی میں 3 اکتوبر کو مظاہرے کے دوران قانون و انتظام کی صورتحال بگڑنے کے واقعے میں تین خاتون صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ اس معاملے کو لے کر عام آدمی پارٹی (آپ) نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس تھانے کے باہر احتجاج کیا۔ پولیس نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے اسے کرائم برانچ کے حوالے کردیا ہے۔
آپ کے دہلی ریاستی کنوینر سوربھ بھاردواج اور پارٹی کارکنوں نے اتوار کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس تھانے کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تین خاتون صحافیوں سے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پولیس تھانے اور اسپتال 24 گھنٹے کھلے رہنے چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس تھانہ کیسے بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص شکایت درج کرانے اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے آئے اور پولیس تھانہ ہی بند کردیا جائے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تھانے کی جانب جانے والے تمام راستے بھی بند کردیئے گئے تھے۔
آپ رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے سوال کیا کہ شکایت کہاں درج کی گئی ہے اور اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں درج ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرانا عوام کا حق ہے اور عدالت بھی اس حق کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہر شخص کو انصاف حاصل کرنے کے لیے احتجاج کرنا پڑے گا؟
دہلی پولیس کے مطابق 3 اکتوبر کو نئی دہلی علاقے میں ہونے والے احتجاج کے دوران قانون و انتظام کی صورتحال بگڑنے کے واقعے میں تین خاتون صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ نئی دہلی ضلع انتظامیہ کو ان کی شکایات موصول ہوچکی ہیں اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے انہیں کرائم برانچ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

