سوشل میڈیا پر بی ایس پی کے خلاف فرضی سروے پھیلائے جا رہے ہیں: مایاوتی

تاثیر17 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ، 17 اکتوبر: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے الزام لگایا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر کام کرنے والے عناصر اور سوشل میڈیا کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ان کی پارٹی کے خلاف گمراہ کن سروے کی تشہری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے محتاط رہنے اور انتخابی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 2027 میں اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان انتخابات کے لیے پارٹی اچھے اور مضبوط امیدواروں کے انتخاب سمیت زمینی سطح پر بڑے پیمانے پر تیاریاں کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اسی دوران ذات پات کی بنیاد پر کام کرنے والے عناصر اور سوشل میڈیا کے ذریعے سازش کے تحت دولت اور وسائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے فرضی اور توجہ بھٹکانے والے سروے کی تشہیر شروع کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق، ان سروے میں فطری طور پر بی ایس پی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔
مایاوتی نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ انتخابات کے دوران ذات پات کی بنیاد پر کام کرنے والا میڈیا ہمیشہ بی ایس پی کے خلاف بے بنیاد اور غیر ضروری پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ 2007 میں بھی اس کا رویہ اسی طرح متعصبانہ اور عداوت پر مبنی تھا، جبکہ بی ایس پی نے تمام قیاس آرائیوں اور توقعات کو غلط ثابت کرتے ہوئے مکمل اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت بنائی تھی۔