تاثیر24 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ممبئی ، 24 اکتوبر:مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کے انتخابات میں ووٹروں کی خفیہ ریکارڈنگ اور رقم تقسیم کرنے کے مبینہ معاملے پر سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شردچندر پوار کی کارگزار صدر اور بارامتی کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے الزام لگایا کہ پونے کے اساتذہ اور گریجویٹ انتخابی حلقوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی خفیہ کیمروں سے لیس قلم کا استعمال کیا ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور متعلقہ چیز دیکھنے کے بعد ہی وہ تبصرہ کرسکیں گے۔
سپریا سولے نے 23 اکتوبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ووٹروں کی جیبوں پر خفیہ کیمرے والے قلم لگانے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر ووٹر کے بی جے پی امیدوار کو ووٹ دینے کی ویڈیو ریکارڈ کی جاتی ہے اور ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد وہ ویڈیو دکھانے پر پہلے سے طے شدہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے اس طریقے کو ووٹ کی رازداری اور ووٹروں کی آزادانہ رائے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

