تاثیر27 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مہمان خصوصی اور ارریہ کے ڈی، ای او “صاحب عالم” نے کہا کہ تعلیم نسواں کے لئے رہائشی ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) ارریہ ضلع ہیڈکوارٹر کوارٹر کا مخصوص طالبات کے لئے واحد تعلیمی و تربیتی ادارہ کلیت الصالحات صالحات نگر میں الحاج نیر الزماں کی صدارت اور مولانا ڈاکٹر ضیاء الرحمن ضیا مدنی کی حسن نظامت میں تزک و احتشام کے ساتھ ایک استقبالیہ اور اعزازی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ضلع ایجوکیشن افیسر جناب صاحب عالم صاحب شریک تقریب ہوئے، اس تقریب کا بابرکت آغاز عزیزہ شادمہ ناز درجہ ہشتم کی تلاوت قرآن سے ہوا جبکہ عمارہ افروز اور صفیہ سندوس نے مہمان خصوصی اور دیگر حاضرین کے لیے استقبالیہ نظم پیش کیا پھر آرزو چمن سعدیہ عاطفہ نے ترانہ صالحات اپنی مترنم اور مسحور کن آواز میں پیش کیا پھر تسنیم تبسم نے اردو میں رقیہ بنت عبد الرحیم نے عربی میں، عائشہ بنت عباس نے انگریزی میں اور نزہت بنت عبد اللہ نے ہندی میں اور ثانیہ حلیم نے فارسی زبان میں کہنہ مشق مقررین کے مانند اپنی تقریریں پیش کرکے خوب خوب داد تحسین حاصل کیں اور ادارہ کے روح رواں اور سیکرٹری الحاج ماسٹر محمد محسن نے ادارے کی موجودہ صورتحال اور تفصیل کے ساتھ رپورٹ پیش کی اس سے قبل یہاں کے طالبات نے مہمان خصوصیاور ضلع ایجوکیشن آفیسر ارریہ کا قطار بند ہو کر تالیوں کی گڑاہٹ سے اور سلام سے ان کا شاندار استقبال کرتی ہوئی انہیں خوش آمدید کہا اور ڈی ای او میں بچوں کے نمائشی مظاہرہ کا بغور نظارہ کیا اور بچیوں کے ان مظاہرے سے بہت متأثر ہوئے پھر آپ نے صالحات کی لائبریری، کمپیوٹر سینٹر، سلایی سینٹر اور ہاسٹل، پرنسپل آفس اور اسٹاف روم کا معائنہ کیا اور آپ تجویز پیش کیا کہ ایسے بہتر اور عمدہ نظم وضبط سے معمور ادارے کا معائنہ ضلع مجسٹریٹ ارریہ سے بھی کروانا چاہیئے۔ آجکے دور کے سماج کو ایسے ہی اداروں کی سخت ضرورت ہے خاص کر تعلیم نسواں کے لئے رہائشی ادارے وقت کی اہم ضرورت ہے ہاسٹل میں رہنے والی یتیم غریب بچیوں کے بارے میں مہمان خصوصی نے جانکاری لی اور اعزازی تقریب میں مختلف مقابلہ میں سے سیرت کوئز قرآن کویز سائنسی نمائش، سر سید احمد خان، مہاتما گاندھی، لال بہادر شاستری، مولانا الکلام ازاد ڈاکٹر علامہ اقبال اور پنڈت جواہر لال نہرو جیسی شخصیات پر مضمون نویسی اور تقریری مقابلے میں پوزیشن لانے والی بچیوں کو مہمان خصوصی کے دست مبارک سے مومنٹو اور توصیفی اسناد دے کر انہیں اعزاز سے سرفراز کیا گیا مذکورہ بالا مقابلے میں جن بچیوں نے پہلا دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کر انعامات حاصل کیں ان میں شاہ نور خاتون، ہبہ فاطمہ، مہرین مظہر،صاحبہ شہباز، آرزو چمن، نورانی انجم، رومہ سلطان، عاتقہ افروز، سبحانی انجم، عفیفہ ناز، عائشہ عباس، فرحانہ ناز، روحی ناز، سائنہ سعید، ماریہ رحمان، نزہت عبید اللہ اور تمنا خاتون وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔تقسیم انعامات کے بعد مہمان خصوصی اور ضلع ایجوکیشن آفیسر جناب صاحب عالم نے اپنے اظہار خیال میں کہا سب سے پہلے میں یہاں کے تمام اساتذہ اور استانی صاحبان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ لوگ قوم و ملت کی ان بچیوں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کر رہے ہیں اس کا بدلہ انسان تو نہیں دے سکتا مگر کل آخرت میں پروردگار عالم آپ تمام حضرات کو بہترین انعامات اور جزا سے نوازے گا۔ آپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جو کچھ بھی اس ادارے میں دیکھا، مجھے قلبی سکون بھی ملا اور خوشی و مسرت بھی حاصل ہوئی، آج کے سماج میں ایسے اداروں کی سخت ضرورت ہے خاص کر تعلیم نسواں کے لئے رہائشی ادارے تو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور ارریہ جیسے پسماندہ علاقے میں اس طرح کا عظیم الشان اور ہر نظم سے منظم ادارہ دیکھ کر میں اس علاقے کے گارجین سے کہوں گا کہ آپ حضرات دینی اور عصری تعلیم سے اپنی بچیوں کو مزین کرنے کے لئے اس ادارے کا رخ کریں اور جو صاحب استطاعت ہیں ایسے حضرات اس ادارے کا بھرپور تعاؤن بھی کریں!، کیونکہ میں نے سنا کہ یہاں نادار، یتیم اور غریب بچیوں کو مفت میں تعلیم کے ساتھ ساتھ قیام وطعام بھی فراہم کئے جاتے ہیں جو اس دور کے لئے بہت بڑی بات ہے۔ صدارتی گفتگو کرتے ہوئے صدر تقریب الحاج نیر الزماں صاحب نے سب سے پہلے صالحات کی طالبات کے لئے فراہمی وقت کے لئےمہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور مہمان خصوصی کو یقین دہانی کرایا کہ آپ کے گائز لائنز پر مکمل عمل کیا جائے گا اور آپ کی رہنمائی و نگرانی میں ان شاءاللہ ادارہ ترقی کی طرف گامزن رہے گا۔ آخر میں پرنسپل محترمہ عفت جہان نے مہمان خصوصی کے ساتھ تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور انعام یافتگان بچیوں کو اپنی دعاؤں سے نوازتی ہوئی ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر فضل الرحمن، مولانا سلمان اختر، خورشید عالم، ماسٹر اسرارالحسن،عفان احمد کامل، اخوان احمد کامل، ماسٹرمحبوب عالم، اساتذہ کرام میں شاہد بابو، پروفیسر توحید انصاری صاحب، مولانا امام الدین، احتشام حسین نائب پرنسپل محفوظ عالم، شمشاد عالم، دیپک بابو، سنجور بابو، مفتی ریحان، عبدالمبین، زبیر عالم، سیما صاحبہ، صابرہ صاحبہ، ماریہ صاحبہ، محترمہ صبا صاحبہ اورمحترمہ عالیہ صاحبہ وغیرہ موجود تھے۔

