دلجیت سنگھ کی موت کے بعد بھی بھگونت مان حکومت نے حساسیت نہیں دکھائی: بی جے پی

تاثیر28 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 28 اکتوبر: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو نشانہ بناتے ہوئے کسان دلجیت سنگھ کی موت اور ان کی لاش کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ مان حکومت نے دلجیت سنگھ کو زندگی میں مناسب احترام نہیں دیا اور ان کی موت کے بعد بھی حساسیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ دلجیت سنگھ کے اہل خانہ کے مطابق ان کی موت نشے کی لت کے باعث ہوئی۔ انہوں نے پنجاب پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ بھاٹیہ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس دلجیت سنگھ کی لاش ان کے اہل خانہ سے زبردستی لے جاتی دکھائی دی اور لاش کو سڑک پر گھسیٹا گیا۔ انہوں نے اس واقعے کے لیے ریاستی حکومت کی ذمہ داری پر سوال اٹھائے۔
گورو بھاٹیہ نے پنجاب کی ثقافتی اور سماجی شناخت کی علامت پگڑی کے احترام کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پورے واقعے کے دوران پگڑی کی بھی بے حرمتی کی گئی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دار قرار دیا اور الزام لگایا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتے ہیں۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ پنجاب کے عوام جمہوری طریقے سے اپنا جواب دیں گے۔ ان کے مطابق، عوام ایسے وزیر اعلیٰ کو دوبارہ منتخب کرنے کے معاملے پر غور کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب 35 سالہ کسان دلجیت سنگھ کے اہل خانہ ان کی لاش کے ساتھ احتجاج کر رہے تھے۔ اسی دوران پنجاب پولیس مبینہ طور پر لاش کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئی۔