تاثیر1 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ٍٍ آج یکم نمبر ہے۔آج ہی دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا بلاک کی مہا ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے۔مانا جا رہا ہے کہ یہ مہا ریلی ملک کی سیاسی فضا میں ایک نئی کشیدگی پیدا کرے گی۔یہ ریلی بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے خلاف ہے۔ مخالف اتحادایس آئی آر کو ووٹ چوری قرار دے رہا ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے بر عکس بی جے پی نے پارٹی صدر دفتر میں اہم میٹنگ بلائی ہے تاکہ جوابی حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ اس سیاسی گھماسان میں بی جے پی لیڈر کیرن رجیجوکے ذریعہ کانگریس سے پوچھے گئے پانچ سوالات نے مزید شدت پیدا کر دی ہے۔
ٍ انڈیا بلاک کا موقف واضح ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے نام پر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام کاٹے جا رہے ہیں۔ اس کارروائی میں خاص طور پر غریب اور پسماندہ طبقے کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی اس ریلی کے مرکزی چہرہ ہیں۔ کانگریس سمیت انڈیا بلاک کے رہنما اس مہا ریلی میں دس لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ریلی کے بعد الیکشن کمیشن آفس تک مارچ نکالنے کا بھی منصوبہ ہے۔اس مہا ریلی کے انعقاد کے لئے دہلی پولیس نے این او سی دے دیا ہے۔ سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے اس مہا ریلی میں تین ہزار پانچ سو سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ میدان کو چودہ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
دوسری طرف بی جے پی اس ریلی کو سیاسی چال قرار دے رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق مخالفین الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر حملہ کر کے جمہوری عمل کو کمزور کر نے کی کوشش کرہے ہیں۔ آج شام پارٹی ہیڈکوارٹر میں بی ایل سنتوش کی صدارت میں میٹنگ ہو نے جارہی ہے۔میٹنگ میں پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کے ساتھ ویزر داخلہ امت شاہ اور پارٹی کے قومی صدر نتن نونین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی برسی کے دن ریلی کرنا سکھ برادری کے جذبات کی توہین ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی رجیجو کے پانچ سوالات کو اپنے موقف کی بنیاد بنا رہی ہے۔
رجیجو نے کانگریس سے جو سوالات پوچھے ہیں، ان میں یہ بھی ہیں کہ 2014 میں، جب الیکشن کمشنرز کی تقرری کانگریس دور میں ہوئی تھی تو پارٹی کو صرف 44 سیٹیں کیسے ملیں؟ 2024 میں جب گیانیش کمار چیف نہیں تھے تو ہار کیسے ہوئی؟ کیا متوفی ، ہجرت کر جانے والے اور غیر قانونی تارکین وطن کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جانے چاہئے یا نہیں ؟ اور کیا ماضی میں کئی بار کیے گئے ایس آئی آر غیر قانونی تھے؟ اس ریلی کا ایک اور اہم پہلو ہے، جو معاش سے جڑا ہوا ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ دیوالی اور دھن تیرَس بہت قریب ہے۔اس موقع پر ریلی کے انعقاد سے دہلی کے بیس بڑے بازاروں میں دس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔ تاجروں نے ریلی کو دس نومبر کے بعد کرنے کی درخواست کی ہے، لیکن کانگریس نے اس سلسلے میں کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا ہے۔
ظاہر ہے،یہ تنازعہ صرف ایک ریلی یا میٹنگ تک محدود نہیں ہے۔ یہ ملک کے انتخابی نظام پر اعتماد کے بحران کی طرف ایک واضح اشارہ بھی ہے۔ ایک طرف مخالف اتحاد الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگا رہا ہے، دوسری طرف حکمراں جماعت اسے سیاسی بددیانتی قرار دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی صفائی ضروری ہے، لیکن اس عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری بھی ضروری ہے۔ اگرایس آئی آر کے ذریعہ واقعی غیر قانونی ناموں کو ہٹایا جا رہا ہے تو اس کی ستائش کی جانی چاہئے ، لیکن اگر اس سے حقدار ووٹرز متاثر ہو رہے ہیں تو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ایسے میں سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ الزامات اور جوابی الزامات سے آگے بڑھ کر الیکشن کمیشن کو مضبوط اور اس کے طریقۂ کار کو اصول و ضوابط کے دائرہ میں لانے پر توجہ دیں۔ ریلی جمہوری حق ہے، لیکن اس سے کاروبار اور عوامی سہولتوں کا نقصان ہو، یہ بھی اچھی بات نہیں ہے۔چنانچہ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ آج کی مہا ریلی اور اس کے ارد گرد کی سیاست ملک کی جمہوریت کے لئے گویا ایک امتحان ہے۔ اگر دونوں طرف سے الزامات در الزامات کا سلسلہ آگے بھی جاری رہا تو الیکشن پروسس پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ ضروری ہے کہ بحث حقائق پر مبنی ہو، نہ کہ صرف سیاسی فائدے پر۔ایس آئی آر جیسے عمل کی شفافیت برقرار رکھنا اور سیاسی اختلافات کو جمہوری دائرے میں رکھنا ہی اس تنازعے کا بہترین حل ہے۔
*********

