اکشر پٹیل کے زخمی ہونے پر ورلڈ کپ ٹیم میں شامل ہوں گے جڈیجہ: ابھیشیک نائر

تاثیر1 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 31 اکتوبر: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ بھلے ہی نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل نہیں ہیں، لیکن 2027 کے ورلڈ کپ کے منصوبوں میں ان کا کردار پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ سابق ہندوستانی بیٹنگ کوچ ابھیشیک نائر کا ماننا ہے کہ جڈیجہ اب بھی ہندوستانی ٹیم کے لیے ایک طرح کی ’انشورنس پالیسی‘ ہیں۔ اگر ورلڈ کپ سے پہلے اکشر پٹیل زخمی ہوتے ہیں تو جڈیجہ کی ٹیم میں واپسی ہوسکتی ہے۔
جیو ہاٹ اسٹار کے پروگرام ’آؤٹ آر ناٹ آؤٹ‘ میں جیو اسٹار کے ماہرین ابھیشیک نائر اور چتیشور پجارا نے ہندوستانی ون ڈے ٹیم میں جڈیجہ کے مستقبل، کلدیپ یادو کو مستقل مواقع نہ ملنے اور بڑے ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے ٹیم میں پانچ ماہر گیند بازوں کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔
نائر نے جڈیجہ کی واپسی کے امکانات پر کہا، ’’ممکن ہے کہ جڈیجہ کی ٹیم میں واپسی نہ ہو، لیکن اگر کوئی کھلاڑی زخمی ہوتا ہے تو سب سے پہلے انہی کا نام ذہن میں آئے گا۔ اکشر پٹیل کے بعد فی الحال کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ ابھی اکشر اس کردار کے لیے سب سے آگے ہیں اور ان کے بعد جڈیجہ آپ کی انشورنس پالیسی ہیں۔ اگر ورلڈ کپ سے پہلے اکشر پٹیل کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو رویندر جڈیجہ ٹیم میں شامل ہوں گے۔‘‘
وہیں، چتیشور پجارا کا ماننا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز سے جڈیجہ کو باہر رکھنا اس فارمیٹ میں ان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اشارہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکشر پٹیل کو ون ڈے کرکٹ میں اہم آل راؤنڈر کے طور پر زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ٹیم مینجمنٹ نے جڈیجہ کو ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہا ہو اور انہیں وائٹ بال کرکٹ کے منصوبوں میں شامل نہیں کیا جا رہا ہو۔ جڈیجہ پہلے ہی ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔ ایسے میں ون ڈے ٹیم میں ان کی واپسی مشکل ہوسکتی ہے۔