تاثیر2 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور، 2 نومبر: بہار کے بھاگلپور میں پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جانب سے ’’جمہوریت بچاؤ، انتشار ہٹاؤ‘‘ پیدل یاترا نکالی گئی۔ اس موقع پر نتن نوین نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے دوہرے رویے پر سوال اٹھائے۔
بی جے پی کے قومی صدر نے کہا کہ اپوزیشن جب انتخاب جیتتی ہے تو اسے جمہوریت پوری طرح محفوظ نظر آتی ہے، لیکن عوام کے ہاتھوں شکست ملتے ہی وہ جمہوریت کو خطرے میں بتانے لگتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے وقت رہتے اپنا رویہ نہیں بدلا تو آنے والے دنوں میں عوام اس کی بچی کھچی سیاسی زمین بھی چھین لیں گے۔
اس سے قبل پیر کی صبح خصوصی طیارے سے بھاگلپور ہوائی اڈے پہنچنے پر پارٹی کارکنوں نے نتن نوین کا شاندار استقبال کیا۔ اس کے بعد لاجپت پارک میں جلسہ گاہ اور پیدل یاترا کے راستے پر این ڈی اے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ اس موقع پر پرجوش کارکنوں نے بی جے پی کے قومی صدر کو ایک بڑا ترشول پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔
پیدل یاترا میں بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے کی مختلف اتحادی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں اور بڑی تعداد میں عام لوگوں نے شرکت کی۔ یاترا کی قیادت سے قبل میڈیا اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نتن نوین نے اتوار کے روز دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن کی ریلی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں اپوزیشن کے رہنما صرف جھوٹ پھیلاتے نظر آئے اور راہل گاندھی ملک کو گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا آغاز بہار سے ہی ہوا تھا۔ ان کے مطابق جب اپوزیشن کرناٹک میں انتخاب جیتتی ہے تو سب کچھ ٹھیک رہتا ہے، لیکن بہار میں شکست کے بعد ای وی ایم اور ووٹ چوری کے الزامات لگانے لگتی ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی پر بیرون ملک جا کر ملک کی جمہوریت، الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کی توہین کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

