سال رواں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ سیاح کشمیر کے سرحدی علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں

تاثیر2 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سری نگر، 02 نومبر:وادی کشمیر میں اس سال اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ سیاح، جن میں مقامی اور غیر مقامی سیاح شامل ہیں، نے شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ سرحدی علاقوں کا دورہ کیا ہے، جس میں وادی گریز سب سے زیادہ مقبول مقام کے طور پر ابھرا ہے، اس کے بعد کپواڑہ میں کیرن دوسرے نمبر پر رہا۔ محکمہ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق وادی گریز کا اب تک تقریباً 1.50 لاکھ سیاحوں نے دورہ کیا ہے، اس کے بعد کپواڑہ کیکیرن میں تقریباً 1.20 لاکھ سیاح آئے، جب کہ اْوڑی میں تقریباً 90,000 سیاحوں کے آنے کی خبر ہے۔ وہیں وادی لولاب میں تقریباً 65,000 سیاحوں کے آنے کی خبر ہے۔ اس کے بعد ٹنگدھار میں تقریباً 40,000، مڑھل میں 30,000 اور تیٹوال میں تقریباً 25,000 سیاح آئے۔ سرحدی مقامات نے حالیہ برسوں میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مشاہدہ کیا ہے، جہاں سیاحوں کو ان کے قدرتی مناظر، روایتی ثقافت اور سیکیورٹی کی بہتر صورتحال کی طرف راغب کیا گیا ہے۔وہ علاقے، جو کبھی بار بار ایل او سی پر گولہ باری اور جھڑپوں سے متاثر ہوتے تھے، فروری 2021 میں پاک بھارت جنگ بندی معاہدے کی توثیق کے بعد ایک اہم تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ جن رہائشیوں کو پہلے گولہ باری کے دوران اپنا گھر چھوڑنا پڑتا تھا وہ اب انہیں سیاحوں کے لیے کھول رہے ہیں اور ہوم اسٹے اور سیاحت سے متعلق دیگر کاروبار چلا رہے ہیں۔