تاثیر3 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 03/ نومبر (تاثیر بیورو) بنگلہ زبان کی تحریک کے اہم رہنما اور مجاہدِ آزادی شہید دھریندر ناتھ دت کی 140ویں یومِ پیدائش کے موقع پر 2 نومبر کو کولکاتا پریس کلب میں اخبار ’سنگباد سوچار‘ کے زیرِ اہتمام ایک یادگاری تقریب منعقد ہوئی۔ امریکہ میں مقیم بنگلہ دیشی مجاہدِ آزادی محمد نور الاسلام کی سرپرستی اور ترغیب سے منعقدہ اس تقریب میں دھریندر ناتھ دت کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ دھریندر ناتھ دت نے 23 فروری 1948 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں بنگلہ زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کرکے زبان کی تحریک کی بنیاد مضبوط کی تھی۔ ان کی جدوجہد نے 1952 کی بنگلہ زبان تحریک کو تحریک دی۔ 1971 میں پاکستانی فوج نے انہیں اور ان کے صاحبزادے دلیپ دت کو گرفتار کرکے شہید کردیا تھا۔
تقریب میں ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا گیا کہ دھریندر ناتھ دت کی قربانی اور مادری زبان سے ان کی وابستگی آج بھی بنگلہ زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اس موقع پر مضمون نگار سبل سردار، صحافی و انسانی حقوق کارکن روپم چٹرجی، ڈاکٹر سوپتا باسو، کھگیندر ناتھ ادھیکاری، سنجے مکھرجی، باول فنکار گنیش رائے، شہید دھریندر ناتھ دت کی صاحبزادی منیشا پورکائستھ، گلوکارہ تنوشری چکرورتی، صحافی سراج جہاں، جینت داس اور ایڈوکیٹ سنجے داس سمیت متعدد شخصیات کو یادگاری اعزاز سے نوازا گیا۔

