تاثیر5 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن، 5 نومبر: امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ کئی ریپبلکن ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اتحادی اس شکست کا ذمہ دار وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ٹھہرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے اس اعلیٰ عہدیدار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اگلے ہفتے مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ سی این این اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق، ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ پارلیمنٹ تھامس میسی نے واضح کیا ہے کہ اگلے ہفتے کانگریس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوگی۔ اس دوران وہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ذرائع کا خیال ہے کہ یہ تحریک ایوان میں منظور بھی ہو سکتی ہے۔
ہیگسیتھ پر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران میں جنگ شروع کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور حساس فوجی معلومات افشا کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بڑی شکست کے لیے کئی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکانِ پارلیمنٹ ہیگسیتھ کی قیادت اور ایران جنگ کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ رکنِ پارلیمنٹ تھامس میسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اگر ہیگسیتھ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو وہ مواخذے کی کارروائی سے بچ سکتے ہیں۔
فلوریڈا کے نومنتخب گورنر بائرن ڈونلڈز، جو فی الحال ایوانِ نمائندگان کے رکن ہیں، نے کہا ہے کہ وہ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ ایوان کی نگرانی کمیٹی کے متوقع چیئرمین رکنِ پارلیمنٹ رابرٹ گارسیا نے کہا کہ ٹرمپ سے متعلق تحقیقات ڈیموکریٹس کو عام لوگوں کے اخراجات کم کرنے کے بنیادی مقصد سے نہیں بھٹکائیں گی۔ انہوں نے چار اہم معاملات کا ذکر کیا: ٹرمپ خاندان کے کاروبار، امیگریشن قوانین پر عمل درآمد، وائٹ ہاؤس کے بال روم کے لیے کارپوریٹ چندہ اور ایپسٹین فائلیں۔

