Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Jan.
واشنگٹن ،18جنوری:امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے اعلیٰ فوجی ذمہ دار اور سینٹ کام کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے امارات کے ساتھ امریکی فوجی معاہدات کی توصیف کی ہے اور ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروپوں کی ?مذمت کی ہے۔ وہ فون پر اماراتی فوجی سربراہ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل انجینئیر عیسیٰ سیف محمد المرزوئی سے بات چیت کرہے تھے۔امریکی سینٹ کام کمانڈر نے یہ فون امارات پر حوثی حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر امارات کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کی۔ ایک سال پہلے یمنی حوثیوں کے ایک ڈرون حملے میں امارات کے تین شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ حملہ بنیادی طور پر ایک آئل ٹینکر پر کیا گیا تھا۔امریکی جنرل نے اسی کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے کی گئی فون کال پر کہا ‘حوثی فورسز نے عام شہریوں اور عوامی سہولت کی چیزوں کو نشانہ بنانے کے لیے اماراتی سر زمین پر حملہ کیا تھا۔ جو اس امر کی یاد دلاتا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کی طرف سے آج بھی خطرات موجود ہیں۔حوثی یمن کے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں اور اب تک سعودی عرب میں سینکڑوں ڈرون حملے کر کے سعودی شہری اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ پچھلے سال انہوں نے ابوظہبی میں بھی ایسا ہی ڈرون حملہ کرکے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا۔منگل کے روز امریکی جنرل کوریلا کی طرف سے کی گئی فون کال میں حالیہ بیس برسوں کے دوران امارات کی امریکہ کے ساتھ مل کر دی گئی قربانیوں کا ذکر کرنے کے بعد کہا گیا’ امارات نے سینٹ کام کے ساتھ مل کر متعدد آپریشنز کیے، کئی مہمات سرانجام دیں جس کے نتیجے میں علاقے کا استحکام یقینی بنا۔’واضح رہے اسی طرح کے ایک بیان میں امریکی صدر جوبائیڈن پہلے کہہ چکے تھے’کہ امریکہ اس موقف پر قائم ہے کہ موثرسفارتکاری کے ذریعے یمن کی جنگ کو امن کی طرف لایا جا سکتا ہے۔’صدر جو بائیڈن نے عرب امارات کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور اس سلسلے مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کے لیے فوجی معاونت سمیت مدد جاری رکھنے کا کہا۔واضح رہے صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی سفارتی اقدامات کے تحت حوثیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکال دیا تھا، یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری کارروائیوں سے اپنی مدد روک دی تھی اور سعودی عرب و عرب امارات کو اسلحے کی فروخت سے متعلق امور کو منجمد کر دیا تھا۔