Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 4th Jan.
ماسکو،4جنوری:جرمنی میں 70سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ سالانہ افراطِ زرکی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔جرمنی کے وفاقی شماریاتی دفترکے مطابق یوکرین پرروس کے حملے کی وجہ سے توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس نے 2022 کے پورے سال میں افراطِ زر کی شرح کو7.9فی صد تک پہنچادیا ہے۔ آخری بارسالانہ افراط زر1951 میں اس سطح کے قریب تھا، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد معاشی عروج شروع ہونے پریہ 7.6 فی صد ریکارڈ کیا گیا تھا۔2021 میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 3.1 فی صد رہی تھی۔ابتدائی اعدادوشمار سے پتاچلتا ہے کہ دسمبرمیں افراطِ زرمیں کچھ کمی واقع ہوئی ہے،گذشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 8.6 فی صد تک،کیونکہ صارفین کو ان کے توانائی اور گیس کے بلوں کی ادائی میں مدد کے لیے ایک بار سرکاری رقوم کی فراہمی اثراندازہوئی ہے۔اکتوبرمیں ماہانہ افراطِ زر کی شرح ریکارڈ 10.4 فی صد تک پہنچ گئی تھی جبکہ نومبرمیں یہ شرح 10 فی صد تک گرگئی تھی۔جرمنی میں بڑھتی ہوئی قیمتیں صارفین کی قوتِ خریدکوکم کررہی ہیں۔اس کے پیش نظر بہت سی جرمن یونینوں نے افراطِ زرکے اثرات کو کم کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں اوسط سے زیادہ تن خواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے لیے اس نے کامیابی کے ساتھ مہم چلائی ہے۔دریں اثنا، یورپ کی سب سے بڑی معیشت میں بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق دسمبر میں بے روزگاروں کی تعداد بڑھ کرساڑھے 24لاکھ یا 5.4 فی صد ہوگئی تحی ہے۔ یہ نومبر کے مقابلے میں قریباً0.1 فی صد پوائنٹ زیادہ ہے۔اگرچہ اس طرح کا اضافہ سال کے اختتام پر غیرمعمولی نہیں کیونکہ عارضی معاہدوں کی میعاد ختم ہوجاتی ہے۔2022ء کے پورے سال میں بے روزگاروں کی اوسط تعداد 24 لاکھ 20 ہزار تھی اور یہ 2021 کے مقابلے میں قریباً دولاکھ کم ہے۔