Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Jan.
واشنگٹن،18جنوری:امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے مہلک حملے کوایک سال مکمل ہونے پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہاریک جہتی میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں یو اے ای کے تحفظ اور سلامتی کے لیے امریکا کے عزم کا اعادہ کیا۔وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں صدربائیڈن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’اپنے دوست صدر شیخ محمد بن زاید کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کرتے ہوئے امریکا متحدہ عرب امارات کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ وہ یمن یا کہیں اور سے بھی درپیش خطرات کے خلاف اپنا دفاع کرتا ہے‘‘۔انھوں نے کہا’’ہم یمن میں جنگ کے پرامن خاتمے کے لیے سفارت کاری کے عمل میں ثابت قدم ہیں اور امریکا مشرق اوسط میں متحدہ عرب امارات اور اپنے دیگر شراکت داروں کی سلامتی کی حمایت جاری رکھے گا جس میں ضروری فوجی امداد بھی شامل ہے۔لہٰذا جب ہم ایک سال قبل کے الم ناک واقعات کی یاد منا رہے ہیں تو ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ایسے واقعات کا دوبارہ اعادہ نہ ہو‘‘۔گذشتہ سال یواے ای میں حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملے کے نتیجے میں ایندھن کے ٹینک میں دھماکا ہوا تھا جس سے تین افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے۔اس وقت یمن سے تعلق رکھنے والی ملیشیا نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ’’متحدہ عرب امارات کی گہرائی میں” ایک آپریشن کیا ہے‘‘۔گروپ کے ترجمان نے کہا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات میں “حساس مقامات” پر پانچ بیلسٹک میزائل اور “بڑی تعداد میں” دھماکا خیز مواد سے لدے ڈرون داغے تھے۔اس حملے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی اور حوثیوں کو پابندیوں کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔امریکا، برطانیہ اور فرانس نے بھی متحدہ عرب امارات کے دفاع کو مضبوط بنانے پراتفاق کیا تھا۔اماراتی صدر کے مشیر ڈاکٹر انورقرقاش نے دہشت گرد حملے کو ایک سال پورا ہونے پرٹویٹر پرلکھا:’’قوم زیادہ طاقتوراورناقابل تسخیرہوئی ہے اور اپنی ترقی کے راستے کو جاری رکھنے کے لییپرعزم ہے۔وہ (ایران کے حمایت یافتہ حوثی) ہمارے ملک پراعتماد کو متزلزل کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ کسی بھی دہشت گرد خطرے سے زیادہ مضبوط ہے، اسے اپنی قیادت اور عوام کے عزم،اپنی کامیابیوں اورہمارے قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں پر فخر ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ایک سال گزر چکا ہے اور دہشت گردی کے ردعمل میں ہماری طاقت اور عزت میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔واضح رہے کہ سنہ 2020 میں صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کایمنی حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا اعلان منسوخ کر دیا تھا۔بائیڈن نے 2015 میں یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کرنے والے عرب اتحاد کی کارروائیوں کے لیے امریکاکی حمایت بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی اب بھی یمنی دارالحکومت صنعاء پر قابض ہیں۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں گذشتہ سال اپریل میں طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔اس میں دومرتبہ توسیع کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں ملک میں عارضی امن قائم ہوا تھا۔یہ قدرے امن گذشتہ سال 2 اکتوبر کو اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد سے اب تک برقرار ہے۔اقوام متحدہ یمن میں وسیع تر جامع معاہدے پر زور دے رہا ہے جس میں سرکاری شعبے کی تن خواہوں کی ادائی کا طریق کارشامل ہو لیکن حوثیوں نے مسلح افواج کے ارکان کو شامل نہ کرنے پر اس تجویز کوتنقید کا نشانہ بنایا تھا۔