Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Jan.
واشنگٹن ،18جنوری:امریکہ نے یورپی یونین اور برطانیہ کی طرف سے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیے جانے سے متعلق جاری سوچ بچار کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ہے اس سے ایران کو مزید الگ تھلگ کرنے اور زیر دباؤ لانے میں مدد ملے گی۔ایرانی پاسدران کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ جبکہ دوسرے ممالک ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے مظاہرین پر کیے گئے کریک ڈاونز کی وجہ سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے سلسلے میں روکی گئی بات چیت سے لگتا ہے کہ اب یورپی ممالک کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ایرانی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاونز کے ساتھ ساتھ کئی یورپی ملکوں کے شہریوں کو بھی ایران گرفتار کر چکا ہے۔ جن پر جاسوسی اور ایران میں مظاہرین کی مدد کر کے فساد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔اس تناظر میں منگل کے روز یورپی کمیشن کے صدر نے پاسداران کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے حق میں آواز اٹھائی۔ خیال رہے ایسا فیصلہ ہو جانے کی صورت میں پاسدارن کے ساتھ تعلق رکھنا اور عوامی مقامات پر اس کا پرچم لہرانا غیر قانونی قرار پائے گا۔برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برطانیہ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اپنے اتحادیوں کی اس سلسلے میں امریکہ حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔امریکی دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا ‘یقیناً ہم اپنے شراکت داروں کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ وہ اپنے قانون کے مطابق ایران پر پابندیاں لگائیں بشمول پاسداران کو دہشت گرد قرار دیں۔امریکی اہلکار کا مزید کہنا تھا ‘پاسداران امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہے اور اسے عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا دیا گیا۔امریکہ کی جو بائیڈن انتظامیہ نے پچھلے سال پاسداران کو اس فہرست سے نکالنے کے بارے میں سوچا تھا کہ پاسداران کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا جائے تاکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی میں پیش رفت ہو سکے لیکن کانگریس میں اتفاق پیدا نہ ہو سکا۔پچھلے ہفتے ریٹائر ہونے والے اسرائیلی آرمی چیف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پینٹاگون پاسداران کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا حامی نہیں تھا، جس کے بعد جو بائیڈن کو بھی اس سلسلے میں پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسرائیلی سابق آرمی چیف کے مطابق یہ مطالبہ جوہری معاملات کے لیے ایرانی مذاکراتی ٹیم کی طرف سے سامنے آیا تھا۔