افغانستان: لڑکیوں میں مفت کتابیں تقسیم کرنیوالا یونیورسٹی پروفیسر گرفتار

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 4th Feb

کابل،4فروری:افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے درمیان طالبان نے یونیورسٹی کے پروفیسر اسماعیل مشعل کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ دارالحکومت کابل کی گلیوں میں لڑکیوں میں مفت کتابیں تقسیم کر رہے تھے۔’’العربیہ ‘‘ اور ’’ الحادث‘‘ کے نمائندے کے مطابق پروفیسر ’’ تعلیم ہر مرد و عورت پر فرض ہے‘‘ کے الفاظ کے ساتھ ٹرالی سڑک پر کھڑا تھا کہ طالبان کے ارکان نے اسے پکڑ لیا اور اپنے ساتھ جیل لے گئے۔’’العربیہ ‘‘ نے اس سے قبل اس پروفیسر سے ملاقات کی تھی، العربیہ کے ساتھ پروفیسر اسماعیل مشعل نے گفتگو کی تھی۔ اسماعیل مشعل کے ویڈیو کلپس مواصلاتی ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ جس وقت انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنی یونیورسٹی کی ڈگریا ں پھاڑی تھیں تو پورے ملک میں ہلچل مچ گئی تھی۔ انہوں نے یہ اقدام یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی خواتین پر طالبان کی پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کیا تھا۔خیال رہے امریکی افواج کے انخلا کے فوراً بعد گزشتہ سال اگست میں ملک کا کنٹرول سنبھالنے والے طالبان نے گزشتہ سال کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ لڑکیوں کے سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔طالبان کے فیصلے صرف یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی لگانے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے اس کے بعد ملک کی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی خواتین کو ملازمت دینے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیے۔ طالبان نے حکومت میں آ کر خواتین کے محرم کے بغیر طویل سفر پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ خواتین کے گھروں سے نکلنے کی صورت میں ان پر حجاب کرنا لازم کردیا گیا ہے۔ ان اقدامات کی بنا پر اندرون ملک اور بیرون ملک سول سائٹی کی تنظیموں نے طالبان پر شدید تنقید کی ہے۔خواتین کے خلاف مزید پابندیوں کے تناظر میں طالبا ن نے بیوٹی شاپس کو بھی بند کر دیا ہے۔ لڑکیوں کے کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ سکولوں میں لڑکوں کے ساتھ گھل مل جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں دکانوں پر موسیقی بجانے پر پابندی ہے اور خواتین کو عوامی پارکس میں جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔