Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 9th Feb
بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ نے ’’ تو ڈال ڈال تو ہم پات پات‘‘ کے فارمولے پر چناوی چال چلنے کی حکمت عملی مرتب کی ہے۔2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اب محض ڈیڑھ سال کا وقت رہ گیا ہے۔بی جے پی اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ بھلے ہی مرکزی اقتدار کا راستہ دہلی سے ہو کر گزرتا ہے لیکن اس میں بہار کا تعاون کم نہیں ہوتا ہے۔2019 کے چناوی تجربے کی بنیاد پر بی جے پی اس وقت تک کم سے کم بہار کے معاملے میں بالکل مطمٔن تھی ، جب تک وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار اس کے ساتھ تھے۔مگر جب سے نتیش کمار بی جے پی سے کنارہ کش ہوئے ہیں، تب سے بہار کو لیکر بی جے پی ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہو گئی ہے۔ بی جے پی کو یہ احساس ستانے لگا ہے کہ اگر بہار کا کھیل بگڑ گیا تو آگے کا راستہ آسان نہیں رہ جائے گا۔لہٰذا، بی جے پی عظیم اتحاد کی حکومت کے پہلے دن سے ہی ہر محاذ پر گھیر کر اسے کم زور کرنے اور اس کی کمزوری کو اپنی طاقت میں تبدیل کرنے کی کوشش میں سر گرداں ہے۔اور اس قدر سرگرداں ہے کہ بہار میں بی جے پی کی جیت کی ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لے لی ہے۔ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ تنظیمی سطح پر بی جے پی کے کام کا جو طریقہ ہے اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔اور جب باگ ڈور امیت شاہ جیسے قائد کے ہاتھ میں ہو تو پارٹی کے کام کاج کے انداز میں جارحیت کی موجودگی لازمی ہے۔
اِدھر بی جے پی سے لوہا لینے کے لئے بہار کا حکمراں عظیم اتحاد پوری طرح سے تیا ر ہے۔بی جے پی کو مات دینے کے لئے عظیم اتحاد 2015 کے تجربے کو دہرانا چا ہتا ہے۔یعنی وہ چناوی میدان میں عظیم اتحاد بی جے پی کی سرگرمیوں پر پوری نظر رکھے گا۔ یعنی بہار میں جہاں جہاں امیت شاہ ریلی کریں گےجے ڈی یو بھی ان ہی جگہوں پر جلسے کرکے جواب دے گا۔اس جوابی اقدام کا سلسلہ 25 فروری سے ہی شروع ہونے والا ہے۔یعنی عظیم اتحاد 25 فروری کو اسی میدان میں ایک ریلی نکالنے جا رہا ہے جہاں پانچ ماہ قبل بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پورنیہ کے رنگ بھومی میدان میں سی ایم نتیش کمار اور ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو سمیت عظیم اتحاد تمام حلیف جماعتوں کے رہنما ایک ساتھ اسٹیج پر ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ عظیم اتحادنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے اتحاد کو پیغام دینے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی ہے۔ عظیم اتحاد کی ساتوں جماعتوں کے رہنماؤں نے8 فروری کو پریس کانفرنس کرکے ایک مشترکہ ریلی منعقد رکرنے کا اعلان کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امیت شاہ کی ریلی کا جواب دینے کے لیے عظیم اتحاد نے بھی سیمانچل کے پورنیہ میں ریلی کا اعلان کیا ہے۔ آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانندر سنگھ نے بتایا کہ پورنیہ کی ریلی کو نتیش کمار اور تیجسوی یادو سمیت عظیم اتحاد کے کئی بڑے لیڈر خطاب کریں گے۔ پورنیہ، کشن گنج، ارریہ، کٹیہار کے علاوہ سپول، مدھے پورہ، سہرسہ اور بھاگلپور اضلاع کے قائدین اور کارکنان کے ساتھ ساتھ غریب، پسماندہ سماج سے جڑنے والے تمام طبقات کے لوگ ریلی میں شرکت کریں گے۔پریس کانفرنس میں جگدانندر سنگھ نے کہا کہ فرقہ پرست اور جنونی طاقتیں، جس طرح ملک اور ریاست کا ماحول خراب کرنے کی سازش کر رہی ہیں، ایسی طاقتوں کو متحد ہو کر جواب دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں عظیم اتحاد نے بہار کے ان تمام مقامات پر ریلی نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے، جہاں پی ایم مودی اور امیت شاہ کی عوامی میٹنگیں ہوں گی۔دوسری جانب بی جے پی اسی دن پٹنہ میں ’’کسان۔مزدور سماگم‘‘ منعقد کرنے جا رہی ہے ،جس دن 25 فروری کو پورنیہ میں عظیم اتحاد کی ریلی ہو رہی ہے۔ امکان ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس میں شرکت کریں گے۔ اس طرح بہار میں بی جے پی اور عظیم اتحاد نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے اپنے اپنے انتخابی بگل بجا دیئے ہیں۔اس طرح دیکھا جائے تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بہار سیاسی طور پر بہت اہم ہو گیا ہے۔ بہار کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ مہینے میں دو دو بار آئیں گے۔
واضح ہو کہ بہار میں لوک سبھا کی کل 40 سیٹیں ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں، بی جے پی 17 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔ جب کہ جے ڈی یو کو 16 سیٹیں ملیںاور کانگریس صرف ایک سیٹ جیت سکی تھی۔ اور آر جے ڈی کا تو کھاتہ بھی نہیں کھل پایا تھا۔ نتیش کمار کی عدم موجودگی میں بی جے پی نے 2024 میں بہار کی 35 سے زیادہ سیٹوں پر قبضہ جمانے کا ہدف رکھا ہے۔اِدھر عظیم اتحاد نے بھی بی جے پی کو اسی طرح جواب دینے کی تیاری کر لی ہے، جس طرح کا جواب اس نے 2015 کے بہار اسمبلی انتخابات میں اس نے بی جے پی کودیا تھا۔یعنی اس بار کی لڑائی بالواسطہ طور پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی حکمت عملی ہے۔امت شاہ آگے آگے چلیں گے اور نتیش کمار پیچھے پیچھے۔فارمولہ ہوگا ’’تو ڈال ڈال تو ہم پات پات‘‘۔
**********************

