Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 9th March
اقوام متحدہ ،9مارچ: بدھ آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں خواتین کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔ عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی عورت مارچ کے عنوان سے ریلیاں منقعد کی گئیں۔ اس سال اس دن کی تھیم ڈیجیٹل اسپیس میں خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انٹرنیٹ تک ان کی رسائی ممکن بنانا ہے۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت اور انصاف کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات کا نوٹس لیں۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر، اقوام متحدہ نے طالبان حکام سے خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق پر سخت پابندیوں کو روکنے اور انہیں واپس لینے کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کی ہے۔سال رواں کے دوران ایک کروڑ 16 لاکھ افغان خواتین اور لڑکیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے – اس کے باوجود طالبان حکام نے غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے والی خواتین پر پابندی لگا کر بین الاقوامی امدادی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو ان کی زندگی گزارنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔اقوام متحدہ نے بدھ کو کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر طالبان کی پابندیوں نے ان میں سے زیادہ تر کو اپنے گھروں میں مکمل طور پر قید کر دیا ہے، جس سے افغانستان خواتین کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ جابرانہ، ملک بن گیا ہے۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خواتین کارکنان افغان دارالحکومت کابل کی گلیوں میں حکمران طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم اور کام تک رسائی پر پابندی کے خلاف دوروز تک احتجاج کے لیے جمع ہوئیں۔وہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو دوبارہ کھولنے اور ان کے کام کرنے کے حق کے لیے مطالبہ کر رہی تھیں۔احتجاجی خواتین زندگی، انصاف اور آزادی کے نعرے لگا رہی تھیں۔ کابل ریلی میں مظاہرین میں سے ایک نے کتبہ اٹھا رکھا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ افغان لوگوں کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کن اور سنجیدہ اقدام کرے۔افغان خواتین کارکنوں کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری افغان خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہے تو اسے خالی بیانات جاری کرنے کی بجائے عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے 18 ماہ سے زائد عرصے میں وہ اپنے تمام حقوق کھو چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کو خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے اجلاس میں کہا تھا کہ افغان عبوری حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کا عوامی زندگی سے مکمل طور پر صفایا کر دیا ہے۔ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی میں کوئی کردار نہیں رہا۔گوتیریس نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ ہر صورت میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کا مطالبہ جاری رکھے گا۔اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی خواتین کی سربراہ کے حالیہ دورہ افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے، گوتریس نے کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق جائز ہیں، اور جب تک انہیں سماجی انصاف نہیں مل جاتا ہم ان کے حقوق کے لیے لڑنا بند نہیں کریں گے۔

