فرضی انکائونٹر کیس میں مجھے مودی کے ْخلاف بولنے کے لئے دبائو ڈالا گیا :امت شاہ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th March

نئی دہلی ،30مارچ: وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ یوپی اے حکومت کے دوران سی بی آئی نے انہیں برابردبائو ڈالا کہ وہ فرضی انکائونٹر کیسوں میں وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف بیان دیں۔ ایک گفتگوکے دوران انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے اہیں برابردبائو ڈالا جب انہیں تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ شہاب الدین انکائونٹر کیس میں ان کے خلاف کیس درج کیا گیا کیونکہ وہ اس وقت گجرات کے وزیرداخلہ تھے۔ امت شاہ نے کہا کہ انہو ں نے کبھی بھی اس معاملے پر ہنگامہ کھڑا نہیں کیا ہے۔ راہل گاندھی کو ہتک عزت کیس میں دوسال کی سزا پر انہوں نے کہا کہ وہ پہلا سیاست دان نہیں ہے جس کو پارلیمنٹ یا اسمبلی سے نااہل کیا گیا ہے۔ بجائے عام وہ عدالت سے ا س سلسلے میں اپیل دائر کرتے کانگریس ا س پر سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17سیاسی رہنما جن میں لالو پرساد یادو ،جے للتا اور راشد علوی ہیں کو رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑا او ریہ سارے معاملے ممنوہن حکومت کے دوران ہوئے۔ لیکن کسی نے کالے کپڑے نہیں پہنے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ہر شخص کے لئے ایک جیسا ہے او راس میں کوئی سیاسی انتقام کی بات نہیں ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ گاندھی خاندان کے لئے کوئی علاحدہ قانون نہیں ہے۔ امت شاہ نے مزید کہا کہ راہل گاندھی کے نااہلی کے لئے اسپیکر ذمہ دار نہیں ہے چونکہ یہ کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب ممنوہن سنگھ کی حکومت نے اس سلسلے میں ایک آرڈیننس لانے کی کوشش کی تو راہل گاندھی نے ہی اس مخالفت کی ۔ ویرساورکر پر راہل گاندھی کے بیان پر وزیرداخلہ نے کہا کہ وہ ایک مجاہد آزادی تھے جنہیں دوبار عمر قید کی سزا ملی ۔ راہل گاندھی کی دادی اندراگاندھی نے بھی ویرساوکرر کی خدمات کو تسلیم کیا جب کہ اسکے اپنے لوگ بھی بار بار یہ کہتے ہیں کہ انہیں احتیاط برتنا چاہئے۔ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کرناٹک میں اکثریت حاصل کریگی ۔